راجیہ سبھا کی 2 نشستوں کیلئے کانگریس میں 16 دعویدار : مہیش کمار گوڑ

   

اندرون 2 یوم ہائی کمان طے کرے گا، بعض ضلع کانگریس صدور کو ارکان اسمبلی سے شکایت، جاریہ ماہ بعض صدورنشین کے تقررات
حیدرآباد 3 مارچ (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ نے انکشاف کیا کہ تلنگانہ میں راجیہ سبھا کی 2 نشستوں کیلئے پارٹی میں 16 دعویدار ہیں۔ گاندھی بھون میں میڈیا سے غیر رسمی بات کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہاکہ امیدواروں کے انتخاب پر ہائی کمان جلد ہی مشاورت کرے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ نئی دہلی طلب کیا جائے گا یا پھر فون پر مشاورت کی جائے گی، اِس کا فیصلہ رات تک ہوسکتا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ راہول گاندھی اور کے سی وینو گوپال نے راجیہ سبھا امیدواروں کے مسئلہ پر کل 30 منٹ بات کی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ سماجی انصاف کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہائی کمان کو 16 قائدین کی فہرست حوالہ کی گئی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ پسماندہ طبقات کے قائدین میں 4 سرکردہ قائدین راجیہ سبھا کی نشست کی دعویداری کررہے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ اندرون 2 یوم یہ طے ہوجائے گا کہ دونوں نشستیں تلنگانہ کے قائدین کو دی جائیں گی یا پھر ایک نشست ہائی کمان اپنے طور پر فیصلہ کرے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوںنے وضاحت کی کہ جسٹس سدرشن ریڈی نے راجیہ سبھا کی نشست کی خواہش نہیں کی ہے۔ بی آر ایس نے اپنے دور میں کارپوریٹ شعبہ کو راجیہ سبھا میں نمائندگی دیتے ہوئے پارٹی قائدین کو نظرانداز کردیا ہے۔ تلنگانہ کی جدوجہد میں سرگرم ایک بھی قائد کو راجیہ سبھا میں نمائندگی نہیں دی گئی۔ اُنھوں نے کہاکہ مارچ میں بعض کارپوریشنوں کے صدورنشین کے تقررات کئے جائیں گے۔ اِس سلسلہ میں ناموں پر غور و خوض جاری ہے۔ چیف منسٹر کیرالا پی وجئین کی جانب سے تلنگانہ حکومت پر تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہاکہ وزیر مال سرینواس ریڈی نے جواب دیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ کیرالا کے آئندہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس حکومت تشکیل دے گی۔ سی پی آئی ماؤسٹ سرکردہ قائدین کے سرینڈر کا حوالہ دیتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہاکہ ماؤسٹ قائدین نے اپنے نظریات کے تحت کئی دہوں تک جدوجہد کی ہے۔ کانگریس نے مرکزی فورسیس سے شروع کردہ آپریشن کگار کی مخالفت کی۔ اُنھوں نے کہا کہ مرکزی حکومت پاکستان سے مذاکرات کرسکتی ہے لیکن ماؤسٹوں سے مذاکرات کیلئے تیار نہیں۔ ماؤسٹ نظریات سے کانگریس کا اتفاق نہیں ہے۔ تشدد، مسائل کا حل نہیں ہوسکتا۔ عوام کیلئے جدوجہد کرنے والوں کا احترام کیا جانا چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ سرینڈر کرنے والے ماؤسٹ قائدین اگر کانگریس میں شمولیت اختیار کرنا چاہیں تو اُن کا استقبال کیا جائیگا۔ اُنھوں نے کہاکہ بعض ضلع کانگریس صدور نے مقامی ارکان اسمبلی کے خلاف شکایت کی ہے۔ 8 مقامات پر ارکان اسمبلی کی جانب سے ضلع کانگریس کمیٹیوں سے عدم تعاون کی شکایت ہے۔ راہول گاندھی نے اِس مسئلہ کی یکسوئی کیلئے مجھے ذمہ داری دی ہے۔ ارکان اسمبلی سے میں نے بات کی اور ضلع صدور کے ساتھ بہتر تال میل کی ہدایت دی۔ اُنھوں نے کہاکہ ایپسٹین فائیل میں وزیراعظم مودی کا نام شامل ہے اور بی جے پی کو اِس پر وضاحت کرنی چاہئے۔ اُنھوں نے الزام عائد کیاکہ عوامی مسائل پر جدوجہد سے روکنے بی جے پی کانگریس قائد کو نشانہ بنارہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ تلنگانہ اور آندھراپردیش کے ضلعی صدور کا ٹریننگ کیمپ کامیاب رہا۔ 10 روزہ ٹریننگ کیمپ میں محض ایک دن شرکت کرنے والے دونوں ریاستوں کے 8 ضلعی صدور کو سرٹیفکٹ جاری نہیں کئے گئے۔1