گورنر کی ڈی اروند سے فون پر بات چیت، حملہ کے بارے میں امیت شاہ کو رپورٹ پیش کرنے کا تیقن
حیدرآباد۔28۔ جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ میں بی جے پی اور ٹی آر ایس حکومت کے درمیان ٹکراؤ کی صورتحال کے دوران ریاستی گورنر ٹی سوندرا راجن کی مداخلت نے تنازعہ کو ایک نیا موڑ دے دیا ہے ۔ گورنر سوندرا راجن نے نظام آباد کے بی جے پی رکن پارلیمنٹ ڈی اروند سے فون پر بات چیت کی اور آرمور میں حملہ کے بارے میں معلومات حاصل کی۔ گورنر نے اس مسئلہ پر ڈائرکٹر جنرل پولیس اور ریاستی وزیر داخلہ سے بات چیت کرنے کا تیقن دیا تاکہ حملہ کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ گورنر نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو اس مسئلہ پر رپورٹ روانہ کرنے کا تیقن دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ ڈی اروند پر حملہ کے علاوہ حال ہی میں بی جے پی کے ریاستی صدر بنڈی سنجے کی گرفتاری کے مسئلہ پر مرکزی وزیر داخلہ کو رپورٹ روانہ کریں گی۔ گورنر کی بی جے پی قائدین کے ساتھ اظہار ہمدردی کے نتیجہ میں حکومت سے ان کی دوری بڑھ چکی ہے۔ یوم جمہوریہ تقریب جو راج بھون میں منعقد ہوئی تھی ، چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور ریاستی وزراء نے شرکت نہیں کی ۔ گورنر نے اپنی تقریر میں وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی حکومت کی اسکیمات کی ستائش کی جبکہ ریاستی چیف منسٹر کے سی آر اور ریاستی اسکیمات کا کوئی تذکرہ نہیں کیا۔ حکومت اور راج بھون کے درمیان بڑھتی دوری کے نتیجہ میں آنے والے دنوں میں مرکز اور ریاست کے درمیان تنازعہ میں شدت کا اندیشہ ہے ۔ واضح رہے کہ بی جے پی قائدین کو راج بھون میں ملاقات کا وقت وقفہ وقفہ دیا جارہا ہے اور بی جے پی قائدین ٹی آر ایس حکومت کے خلاف نمائندگی کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گورنر نے ڈی اروند سے فون پر حملہ کے بارے میں تفصیلات حاصل کی۔ ڈی اروند نے گورنر سے شکایت کی کہ پولیس کمشنر نظام آباد کی نگرانی میں حملہ کا منصوبہ تیار کیا گیا۔ اروند نے کہا کہ حملہ کے بارے میں پولیس کو پیشگی اطلاع کے باوجود انہیں مناسب سیکوریٹی فراہم نہیں کی گئی ۔ حالیہ عرصہ میں بی جے پی کے دو ارکان پارلیمنٹ پر حملہ کے واقعات پیش آئے ہیں۔ گورنر نے ڈی اروند کو ان واقعات کا سنجیدگی سے نوٹ لینے کا تیقن دیا۔ر