سیاسی اور غیر سیاسی افراد کے نام زیر غور، دونوں اقلیتی طبقات کا چیف منسٹر پر دباؤ
حیدرآباد ۔یکم جون (سیاست نیوز) راج بھون اور پرگتی بھون کے درمیان کشیدگی کا اثر گورنر کوٹہ کی دو ایم ایل سی نشستوں پر امیدواروں کے انتخاب پر پڑا ہے۔ کے سی آر حکومت کو سابق میں گورنر کوٹہ کی نشستوں کو پُر کرنے میں راج بھون سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بعد تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی ۔ اب جبکہ گورنر کوٹہ کی دو نشستوں کی میعاد تین دن قبل مکمل ہوچکی ہے لیکن چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ دونوں نشستوں کیلئے امیدواروں کے انتخاب میں کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھا رہے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کے سی آر نے امکانی امیدواروں کے مسئلہ پر اپنے قریبی رفقاء سے مشاورت کی لیکن ساتھ میں یہ بھی کہا کہ راج بھون سے کشیدگی کو دیکھتے ہوئے ناموں کے انتخاب میں احتیاط کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ گورنر کوٹہ کے دونوں ارکان بی راجیشور راؤ اور فاروق حسین کی میعاد 27 مئی کو ختم ہوچکی ہے اور نامزدگی سے متعلق دونوں عہدوں کے لئے حکومت کی جانب سے تجاویز روانہ کرنے کیلئے دستوری اور قانونی طور پر کوئی مہلت نہیں ہے ۔ لہذا حکومت مناسب وقت پر دو امیدواروں کے ناموں کا فیصلہ کرے گی۔ آئندہ چند ماہ میں عام انتخابات کے پیش نظر دونوں نشستوں کیلئے بی آر ایس میں کئی دعویدار میدان میں آچکے ہیں۔ چیف منسٹر سے قربت رکھنے والے بعض افراد کی نظر بھی کونسل کی نشستوں پر ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کے ٹی راما راؤ اور ہریش راؤ نے کونسل کی نشستوں کے خواہشمندوں پر واضح کردیا ہے کہ ناموں کے انتخاب کا اختیار چیف منسٹر کو ہے۔ اطلاعات کے مطابق 27 مئی کو دونوں ارکان کی میعاد ختم ہونے کے بعد راج بھون سے حکومت کو مکتوب روانہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ ناموں کی روانگی کیلئے یاد دہانی کرائی جاسکے۔ امید کی جارہی تھی کہ 17 مئی کو ریاستی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا جانے والا تھا لیکن چیف منسٹر نے فیصلہ کو موخر کردیا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نامزد نشستوں کے لئے ناموں کی روانگی میں تاخیر کرسکتی ہے۔ دیگر ریاستوں میں اس طرح کی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں گورنر کوٹہ کی نشستوں کو تقریباً ایک سال کے بعد پر کیا گیا تھا۔ راج بھون سے ناموں کی منظوری میں رکاوٹ کے اندیشہ کے تحت چیف منسٹر غیر سیاسی افراد کی تلاش میں ہیں جبکہ پارٹی کے سینئر قائدین کا کہنا ہے کہ انتخابات کے پیش نظر سیاسی پس منظر رکھنے والے افراد کو نامزد کیا جانا چاہئے تاکہ الیکشن میں پارٹی کو فائدہ ہو۔ سبکدوش ہونے والے دونوں ارکان کا تعلق اقلیتی طبقہ سے ہے ، لہذا چیف منسٹر کے لئے ناموں کا انتخاب آسان نہیں ہوگا۔ مسلمانوں اور عیسائی تنظیموں کی جانب سے دونوں نشستوں پر مضبوط دعویداری پیش کی گئی ہے۔ کئی عیسائی تنظیموں نے چیف منسٹر سے ملاقات کرتے ہوئے عیسائی نمائندہ کی جگہ کسی مذہبی شخصیت کو کونسل کیلئے نامزد کرنے کی سفارش کی ہے۔ بی آر ایس کے کئی مسلم قائدین نے اپنی دعویداری پیش کی جن میں بعض اقلیتی اداروں کے صدور نشین اور اضلاع سے تعلق رکھنے والے قائدین شامل ہیں۔ اضلاع کے قائدین کو شکایت ہے کہ اہم عہدوں میں ہمیشہ اضلاع کے ساتھ ناانصافی کی گئی۔ حالیہ عرصہ میں جو تقررات کئے گئے ، ان میں محبوب نگر ، نظام آباد اور کاما ریڈی کو نمائندگی ملی ہے۔ کونسل کی نشست کے لئے تلنگانہ تحریک سے وابستہ بعض قائدین بھی امیدواروں میں شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بی آر ایس کی حلیف جماعت مجلس نے بھی چیف منسٹر کو ایک نام تجویز کیا ہے تاہم اس نام کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔ سبکدوش ہونے والے دونوں ارکان راجیشور راؤ اور فاروق حسین دوبارہ نامزدگی کی مساعی کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تقریباً 10 بی آر ایس قائدین ایسے ہیں جنہیں کے سی آر نے کونسل کی رکنیت کا وعدہ کیا تھا۔ انتخابات کے پیش نظر کے سی آر کسی بھی طبقہ کی ناراضگی مول لینا نہیں چاہتے ، وہ تمام طبقات کو مطمئن کرنا چاہتے ہیں لیکن نشستوں کی تعداد صرف دو ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ چیف منسٹر اقلیتی طبقات کو اہمیت دیں گے یا پھر دیگر پسماندہ طبقات کو ترجیح دی جائے گی۔ر