راج بھون کے روبرو سی پی آئی قائدین اور مائیگرنٹ ورکرس کا احتجاج

,

   

صورتحال کشیدہ، پولیس کی مداخلت، اندرون دو یوم واپسی کا انتظام کرنے کا تیقن
حیدرآباد ۔20۔ مئی(سیاست نیوز) مائیگرنٹ ورکرس نے سی پی آئی قائدین کے ہمراہ آج راج بھون کے روبرو احتجاج منظم کرتے ہوئے ان کی واپسی کا انتظام کرنے کا مطالبہ کیا۔ مغربی بنگال ، اڈیشہ ، بہار اور چھتیس گڑھ سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں مائیگرنٹ لیبرس سی پی آئی کے قومی سکریٹری ڈاکٹر کے نارائنا اور ریاستی سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی کے ہمراہ احتجاج کرتے ہوئے خصوصی ٹرین یا بسوں کے ذریعہ واپسی کا انتظام کرنے کا مطالبہ کیا ۔ کمیونسٹ پارٹی نے مائیگرنٹ لیبرس کے حق میں کل سے قومی سطح پر احتجاج کا آغاز کیا ہے ۔ سکندرآباد علاقہ میں رہنے والے مائیگرنٹ لیبرس کی کثیر تعداد عیدالفطر سے قبل اپنے آبائی مقامات واپس ہونا چاہتی ہے۔ راج بھون کے روبرو احتجاج پر پولیس کی بھاری جمیعت پہنچ گئی اور سی پی آئی قائدین سے بات چیت کی ۔ پولیس عہدیداروں نے مائیگرنٹ لیبرس کو یقین دلایا کہ اندرون دو یوم ان کی واپسی کا انتظام کیا جائے گا ۔ سی پی آئی قائدین نے کہا کہ وہ گرفتاری کیلئے تیار ہیں تاہم مائیگرنٹ لیبرس کو انصاف دلانے کی جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ پولیس کے تیقن کے بعد مائیگرنٹ لیبرس اپنے مقامات واپس ہوگئے۔ ڈاکٹر کے نارائنا نے مملکتی وزیر داخلہ کشن ریڈی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کے حلقہ انتخاب میں ہزاروں مائیگرنٹ لیبرس کی واپسی کے بارے میں کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر کو مائیگرنٹ لیبرس کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ ڈاکٹر نارائنا نے لیبرس کو رقم کی ادائیگی کے خلاف کشن ریڈی کے بیان پر تنقید کی اور کہا کہ واپس ہونے والے مزدوروں کو حکومت کی جانب سے امداد کی فراہمی ضروری ہے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر مائیگرنٹ لیبرس کو واپس نہیں بھیجا گیا تو سی پی آئی کی جانب سے کشن ریڈی کے پتلے نذر آتش کئے جائیں گے ۔ چاڈا وینکٹ ریڈی نے ہر خاندان کو 10,000 روپئے کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کارپوریٹ اداروں کو ہزا روں کروڑ کا فائدہ پہنچا رہی ہے لیکن اسے غریبوں کی فکر نہیں۔ گزشتہ 15 دنوں میں تلنگانہ سے برائے نام خصوصی ٹرینوں کا انتظام کیا گیا ۔ انہوں نے مرکز سے اور ریاستی حکومت کے رویہ کے خلاف احتجاج میں شدت پیدا کرنے کا اعلان کیا ۔