راج موہن گاندھی باوقار شخصیت

   

رامچندر گوہا
راج موہن گاندھی کو ہندوستان ہی نہیں دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔ عالمی سطح کے دانشوروں ، ماہرین تعلیم ، سوانح نگاروں ، مورخین اور سیاستدانوں میں اُنھوں نے اپنی صلاحیتوں اور قابلیت کے ذریعہ ایک منفرد پہچان بنائی ہے ۔ اُن کی خاص بات یہ ہے کہ وہ مہاتما گاندھی کے پوتے اور آزاد ہند کے پہلے گورنر جنرل سی راجگوپال چاری کے نواسے ہیں ۔ راجگوپال چاری نے 1948 ء تا 1950 ء ملک کے پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور 1950 ء میں ہندوستان کے جمہوریہ ہند بننے کے بعد گورنر جنرل کا عہدہ برخواست کردیا گیا ۔ اُس کے بعد وہ ہندوستان کے وزیرداخلہ اور ریاست مدراس کے چیف منسٹر رہے ۔ انھوں نے سوتنترا پارٹی قائم کی ، اُنھیں ملک کے اعلیٰ ترین سیویلین ایوارڈ بھارت رتن حاصل کرنے والی پہلی شخصیت ہونے کا اعزاز بھی حاصل رہا جبکہ مہاتما گاندھی اپنے پیام عدم تشدد کے باعث سارے دنیا میں مشہور ہوئے ۔ ہندوستان کی جدوجہد آزادی کی قیادت کرنے کا بھی گاندھی جی کو اعزاز حاصل رہا ، یہی وجہ ہے کہ اُنھیں بابائے قوم کہا جاتا ہے۔
ہم اس کالم میں مذکورہ دونوں شخصیتوں کے پوتے اور نواسے راج موہن گاندھی کے بارے میں آپ کو بتارہے ہیں۔ مہاتما گاندھی کے چار بیٹے تھے وہ اپنے دو بڑے بیٹوں ہری لال اور منی لال کے ساتھ بہت سختی برتتے تھے ، یعنی اُن کی تعلیم و تربیت پر حد سے زیادہ توجہ دیتے تھے اور تیسرے بیٹے رام داس کے ساتھ بھی اُن کا سلوک بہت سخت ہوا کرتا تھا لیکن جب سب سے چھوٹے بیٹے دیوداس کی پیدائش ہوئی تب تک گاندھی ایک نرم دل ، نرم گفتار اور اپنے بچوں کے ساتھ شفقت سے پیش آنے والے شفیق والد بن چکے تھے چونکہ دیوداس سب سے چھوٹا بیٹا تھا اس لئے وہ اپنی ماں کستوربا گاندھی کالاڈلا تھا ۔
دیوداس نرم طبعیت کا مالک تھا ، اُس میں ہر کسی کی مدد کا جذبہ بدرجہ اتم موجود تھا ۔ اس طرح وہ اپنی اس خوبی کے باعث جلد ہی آشرم کی زندگی میں رچ بس گیا تھا ۔ وقت گذرتا گیا دیوداس بڑا ہوتا گیا اور جیسے جیسے وہ بڑا ہوتا گیا اپنے والد کے ہرحکم کی تعمیل کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتا اُن کی کبھی حکم عدولی نہیں کرتا ۔ آشرم کا ہر کام دل و جاں سے اور پورے جوش و خروش کے ساتھ کرتا چاہے وہ سوت کاتنا ہو یا پھر جنوبی ہند کے لوگوں کو ہندی سکھانا ہو ۔ دیوداس آشرم میں آنے اور قیام کرنے والے جنوبی ہند کے باشندوں کو بڑی ہی خوبصورتی کے ساتھ ہندی سکھاتا ۔ چنانچہ دیوداس اور لکشمی پریشان ہوگئے ۔ اُنھیں ایک دوسرے سے جدائی کا احساس ستانے لگا تب دونوں کے والدین نے اُن سے اُن کے پیار کا امتحان لیا اور اس امتحان یا آزمائش کے نتیجہ میں اُنھیں 5 سال کے ایک طویل عرصہ تک انتظار کرنا پڑا ، جدائی برداشت کرنی پڑی ۔ والدین نے یہ شرط رکھی کہ دونوں 5 برسوں تک ایک دوسرے سے بات کریں گے اور نہ ہی ایک دوسرے کو محبت نامے لکھیں گے ۔ بہرحال 5 سال کی مدت ختم ہوگئی پھر دیوداس اور لکشمی کی شادی کردی گئی ۔
شادی کے بعد دیوداس کو ہندوستان ٹائمس جیسے اخبار میں ملازمت کی پیشکش کی گئی اس طرح وہ اپنی بیوی لکشمی کو لیکر دہلی منتقل ہوگئے اور اسی شہر میں اُن کے چار بچوں کی پیدائش ہوئی ۔ 1934 ء میں تارا نے جنم لیا ، 1935 ء میں راج موہن کی پیدائش ہوئی ۔ 1937 ء میں رامچندرا نے اس دنیا میں آنکھیں کھولیں اور 1945 ء میں گوپال کرشنا اس دنیا میں آئے ۔
گاندھی کے بیٹے کی راجہ جی کی بیٹی کے ساتھ شادی کا واقعہ بچپن ہی میں میرے ذہن میں بیٹھ گیا تھا ۔ دیوداس اور لکشمی کی محبت اور شادی کی کہانی ہندوستان کے متوسط طبقہ میں مشہور تھی یعنی اس طبقہ میں دونوں کے رومانس کے کافی چرچے تھے اور اُن کی کہانی خود میرے والدین کیلئے ایک تحریک بن گئی جو ایک دوسرے کے عشق میں گرفتار ہوئے اور اپنے خاندانوں کو راضی کرنے کیلئے 5 سال انتظار کیا تب کہیں جاکر اُن کی شادی ہوئی۔
میری زندگی کے سب سے بڑا اعزازات میں سے ایک اعزاز یہ رہاہے کہ میں دیوداس گاندھی اور لکشمی گاندھی کے چاروں بچوں سے دوستی کرسکا ، ان کو جان سکا اور اُن سے متاثر بھی ہوا ۔ ان چاروں بہن بھائیوں میں سے جن کے بارے میں میں نے سب سے پہلے سنا اور جس سے میری ملاقات ہوئی وہ فلسفی رامچندر ( رامو) تھے ۔ انھوں نے دہلی کے سینٹ اسٹیفن کالج میں میرے دو ماموؤں کے ساتھ تعلیم حاصل کی تھی ، اُن بہن بھائیوں میں راقم الحروف سب سے بہتر جن کو جانتا ہے وہ سب سے چھوٹے ہیں گوپال کرشن جو ایک پبلک سرونٹ اور ادیب ہیں ۔ ہماری دوستی 1980 ء کے دہے کے اواخر میں شروع ہوئی جب ہم دونوں دہلی میں کام کرتے تھے ۔ وہ گوپال گاندھی کا ہی گھر تھا جس میں اُن کی بہن تارا سے میری پہلی ملاقات ہوئی جو کھادی پر ایک اتھارٹی ہے ۔ تارا کی ایک اور خوبی ہے کہ وہ بہ یک وقت کئی ایک زبانوں پر عبور رکھتی ہیں جن میں ہندی ، بنگالی ، اطالوی اور انگریزی شامل ہیں وہ گوپال ہی تھے جنھوں نے مجھے اپنی بھائی راج موہن سے ملایا جن کی 90 ویں سالگرہ 7اگسٹ کو منائی گئی اور اُن کی یہ سالگرہ میری اس تحریر کا خوشگوار بہانہ ہے۔
راج موہن گاندھی سے میری پہلی ملاقات ہوئی 1990 ء میں ، انھوں نے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لیکر شکست اُٹھائی تھی اس سے ایک سال قبل اُس وقت کے وزیراعظم راجیوگاندھی کے خلاف لوک سبھا انتخابات میں امیٹھی سے مقابلہ کیلئے راج موہن گاندھی اپوزیشن کے مشترکہ اُمیدوار بنائے گئے ۔ اس انتخابی مقابلہ کو اصلی گاندھی اور نقلی گاندھی کے درمیان مقابلہ کے طورپر پیش کیا گیا ۔ ایک طرف مہاتما گاندھی کے حقیقی جانشین اور دوسری جانب ایک ایسا شخص جو محض اتفاقی طورپر اُن کے خاندانی نام کو GHANDY لکھا تھا ۔
راج موہن کے پاس اخلاقیات تھے ، پیسہ نہیں تھا اور نہرو ۔ گاندھی کا گڑھ کہلائے جانے والے امیٹھی میں راج موہن گاندھی کو کراری شکست کا سامنا کرنا پڑا تاہم ان انتخابات میں راجیوگاندھی کی پارٹی واضح اکثریت سے محروم ہوگئی جس کے نتیجہ میں وی پی سنگھ عہدہ وزارت عظمیٰ پر فائز ہوئے ۔ راج موہن گاندھی کی انتخابی کوشش کے صلہ میں اُنھیں وی پی سنگھ نے راجیہ سبھا کیلئے نامزد کیا ۔ طویل القامت ، دبلے پتلے آنکھوں پر موٹے چشمے لگائے اور بال پیچھے جمائے راج موہن گاندھی ایک باوقار اور سنجیدگی کا پیکر تھے ۔ وہ نرم و نازک لہجہ میں اور آہستہ آہستہ اور سوچ سمجھ کر بات کرتے ، اُن میں راموجیسی شوخ مزاج اور چالاکی تو نہ تھی ( جیسا کہ میں نے اپنے جاننے پہچان والوں میں شاذ و نادر ہی دیکھا ہے ) مگر پہلی ملاقات سے ہی یہ بات واضح تھا کہ وہ کئی ایک خوبیوں کے مالک تھے ۔
پہلی ملاقات کے کچھ ہی عرصہ بعد میں نے اُن کی تحریروں کا مطالعہ کیا اور بے حد متاثر ہوا خاص طورپر راج موہن گاندھی نے سردار پٹیل کی جو سوانح عمری لکھی وہ آج بھی کئی دہے بعد بھی اپنے موضوع پر معیاری سمجھی جاتی ہیں اور میں نے ہفتہ وار ہمت کے بارے میں بھی سنا جو اُنھوں نے قائم کیا تھا اور اس کے ایڈیٹر بھی تھے ۔ وہ رسالہ آزاد خیال اقدار کی وکالت کرتا تھا ۔ ایمرجنسی کے دوران سنسر شپ کے دباؤ کو برداشت کرتا رہا لیکن بعد میں فنڈس کی کمی کے باعث ہمت نے ہمت ہاردی لیکن اس عرصہ میں راج موہن گاندھی نے صحافیوں کی ایک بہترین ٹیم تیار کی جو بعد میں ملک کے مشہور و معروف قومی اخبارات میں اہم عہدوں بشمول ایڈیٹرس کے عہدوں پر فائز ہوئے ۔ راج موہن گاندھی سے اگرچہ اُن کے بھائی گوپال نے مجھے ملایا تھا لیکن اس کے بعد مسلسل اُن سے ملاقاتیں ہوتی رہی اور ہر ملاقات میں مجھے ملک کی تاریخ کی گہری معلومات حاصل ہوتی رہی ۔ میں اُن سے دہلی ، بنگلورو ، پنچ گنی اور ایسٹ لانسنگ ، مشی گن میں ملتا رہا ۔ اُن کی کتابیں اور مضامین پڑھتا رہا ۔
میری پیدائش ایک ایسے خاندان میں ہوئی جو پنڈت جواہر لال نہرو کامدح تھا ، یہاں تک ہمارے خاندان میں مہاتما گاندھی سے کہیں زیادہ نہرو کو تسلیم کیا جاتا ہے لیکن میں نے نہرو کے تئیں تنقیدی رویہ اپنایا کیونکہ نہرو کی حکومت نے جارحانہ پالیسیاں اختیار کی تھیں جس کے ماحولیات پر منفی اثرات کے بارے میں زیادہ فکر نہیں کی گئی تھی لیکن راج موہن گاندھی ہی تھے جنھوں نے مجھے میرے دیگر دوستوں کی طرح نہرو کو بدنام کرنے کی شدت پسند راہ پر چلنے سے روکا ۔ اپنی کتاب The Good Boatman میں راج موہن گاندھی نے نہرو کی اقتصادی پالیسی سے عدم اتفاق کرنے کے باوجود لکھا کہ نہرو ہی گاندھی کے حقیقی سیاسی وارث تھے اور مہاتما گاندھی کے تمام پیروکاروں میں وہ نہرو ہی تھے جنھوں نے گاندھی کی تعلیمات پر عملی طورپر عمل کرکے دکھایا چنانچہ ہندوستان کے پہلے وزیراعظم پنڈت نہرو ہندو تھے لیکن مسلمان پوری طرح اُن پر بھروسہ کرتے تھے ۔ انھوں نے خواتین کے مساویانہ حقوق کی لڑائی بھی لڑی شمالی ہند سے اُن کا تعلق رہنے کے باوجود جنوبی ہند میں اُن کی بہت عزت کی جاتی تھی ۔