راج ناتھ نے مشرقی لداخ میں صورت حال کا جائزہ لیا

,

   

فریقین کی اگلے ہفتہ کور کمانڈر سطح کے چوتھے دور کی میٹنگ
نئی دہلی: مشرقی لداخ میں چین کے ساتھ دوماہ سے چلے آرئے تعطل کے درمیان وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے آج یہاں اعلیٰ فوجی قیادت کے ساتھ صورت حال کا جائزہ لیا۔ذرائع کے مطابق وزیردفاع نے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت،آرمی چیف جنرل منوج مکند نروانے ، نیوی چیف کرمبیر سنگھ اورفضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل آر کے ایس بھدوریہ اور سینئر فوجی افسران کے ساتھ لائن آف ایکچول کنٹرول پر تازہ ترین صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔میٹنگ میں جنرل نروانے نے پیگانگ جھیل کے وادی گلوان،گوگرا،ہاٹ اسپرنگ اور فنگر 4 علاقوں میں فوجیوں کے باہمی پیچھے ہٹنے کے عمل کے پہلے مرحلہ کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا۔آرمی چیف نے علاقہ میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے فوج کی تیاریوں کے بارے میں بھی وزیردفاع کو جانکاری دی۔انہوں نے مشرقی لداخ ،اروناچل پردیش،اتراکھنڈ اور سکم میں حقیقی لائن سے متصل حساس علاقوں میں صورت حال سے متعلق تفصیل فراہم کی۔سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ فوجیوں کے پیچھے ہٹنے کے عمل کا پہلا مرحلہ پورا ہونے کے ساتھ ہی فریقین کی اگلے ہفتہ کور کمانڈر سطح کے چوتھے دور کی میٹنگ بھی ہونے والی ہے ۔اس دوران فوجیوں کو پیچھے ہٹانے کے اگلے مرحلہ کے طور طریقوں اور دیگر امور پر بات چیت ہونے کا امکان ہے ۔دونوں افواج کے درمیان مئی کے شروع سے ہی مشرقی لداخ میں مختلف علاقوں میں تعطل بنا ہوا ہے ،اسی کے چلتے دونوں جانب کے فوجیوں کے درمیان گذشتہ 15جون کو وادی گلوان میں پرتشدد جھڑپ ہوئی تھی جس میں ایک کرنل سمیت 20 فوجی شہید ہوگئے تھے ۔چین کے بھی بڑی تعداد میں فوجی ہلاک ہوئے تھے ۔