راج ٹھاکرے کا بیان گمراہ کن،ائمہ مساجد اور علماء کی وضاحت

   

ممبئی: لوک سبھا انتخابات 2024 کے دوران حسبِ اقتدار پارٹی ( این ڈی اے ) اور ان کے اتحادی جماعتوں کے لیڈران اپنی تشہیری مہم کے دوران جھوٹ اور فرقہ پرستی پر مبنی بیانات اور تقریروں کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کر تے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ اسی طرح کی ایک کوشش مہاراشٹر نو نرمان سینا کے صدر راج ٹھاکرے نے اپنے ایک حالیہ بیان کے ذریعے سے کی ہے ۔ راج ٹھاکرے نے کہا کہ ممبئ کی مساجد سے انڈیا اتحاد کے حق میں فتویٰ جاری کیے جا رہے ہیں۔ان کے اس بیان کی ممبئی میں ائمہ مساجد اور علماء نے سخت لفظوں میں مذمت کی ہے اور راج کے اس بیان کو بے بنیاد اورانتہائی گمراہ کن قرار دیا ہے ۔بتا دیں کہ، راج ٹھاکرے نے جمعہ کو پونے میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مولوی صاحبان مہا وکاس اگھاڑی کے امیدواروں کو ووٹ دینے کے لیے مسلم کمیونٹی کو ‘فتویٰ’ جاری کر رہے ہیں۔ “اگر مساجد سے ایسے فتوے جاری ہو رہے ہیں تو آج میں بھی یہ فتویٰ جاری کر رہا ہوں کہ میرے ہندو بھائیوں، بہنوں اور ماؤں کو بی جے پی، ایکناتھ شندے کی شیو سینا اور اجیت پوار کی این سی پی کے امیدواروں کو ووٹ دینا چاہیے “۔راج ٹھاکرئے کے اس بیان کی سخت لفظوں میں مذمت کرتے ہوئے آل انڈیا سنئ علماء و ائمہ مساجد کے صدر و خطیب وامام ہندوستانی مسجد بائیکلہمولانا عبدالجبار ماہرالقادری نے اسے بے بنیاد ، گمراہ کن قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ، مساجد سے کسی بھی سیاسی پارٹی کی حمایت نہیں کی گئ اور نہ ہی کی جائیگی البتہ مصلیانِ مساجد کو ووٹ کی افادیت و اہمیت سے روشناس کرایا جا رہا ہے اور انہیں ووٹ ڈالنے کی تلقین کی جا رہی ہے ۔ وہ اپنی مرضی کے مالک ہے جسے چاہے ووٹ دیں نیز ان کو یہ مشورہ بھی دیاگیا کہ مصلیان مع اہل وعیال اپنے جمہوری حق رائے دہی کا استعمال کریں تاکہ ملک میں جمہوریت قائم رہے اور دستورہند کو ختم کرنے کے جو اشارے دیے جا رہے ہیں اس پر قدغن لگے ۔