برہم کسانوں کا سخت بیان
بات چیت کے لیے وزیراعظم مودی کو خود سنگھو بارڈر آنا ہوگا
نئی دہلی :زرعی قوانین کے خلاف غازی پور بارڈر پر مظاہرہ کر رہے بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت نے کہا کہ جب تک زرعی قوانین واپس نہیں لیے جاتے تب تک کسانوں کی گھر واپسی بھی نہیں ہوگی۔ دہلی ۔ ہریانہ سرحد سنگھو بارڈر پر کسانوں کا احتجاج 24 ویں دن میں داخل ہوا جہاں شدید ترین سردی کے باوجود کسان ڈٹے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اب اگلی بات چیت راست وزیراعظم سے ہوگی اور نریندر مودی کو احتجاج کے مقام پر آنا ہوگا ۔ راکیش نے کہا کہ اگر ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوئے تو 26 جنوری کو راج پتھ کا نام بدل کر کرشی پتھ کر دیں گے۔کسان کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر ان کی حکومت پر تین زرعی قوانین کے خلاف احتجاج میں 22 کسانوں کی موت کا الزام عائد کیا ہے۔ جان گنوانے والے ہر کسان کے اہل خانہ کو ایک کروڑ روپئے کا معاوضہ دیا جائے ۔۔