دیگر علاقوں کی امداد وصول کرنے پر محلہ چھوڑنے کی دھمکیاں
حیدرآباد۔2اپریل(سیاست نیوز) شہر کے کئی علاقوںمیں راشن اور کھانے کی تقسیم پر سیاست شروع ہوچکی ہے اور ایک گلی کے لیڈر عوام کو پریشان کرتے ہوئے انہیں دیگر علاقوں سے اور مخالف نظریات رکھنے والوں کی جانب سے موصول ہونے والی امداد کی وصولی پر انتباہ دینے لگے ہیں جس کے سبب غریب عوام مزید بھوک و افلاس کا شکار ہورہے ہیں۔ شہر حیدرآباد کے کئی سلم علاقوں سے اس بات کی شکایات موصول ہورہی ہے کہ مقامی لیڈر اور غنڈوں کی جانب سے غریب عوام کو ہراساں کیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ وہ کسی کی جانب سے سربراہ کئے جانے والا کھانا یا راشن نہ لیں بلکہ اگر انہیں کسی شئے کی ضرورت ہوتو انہیں واقف کروائیں لیکن جب واقف کروایاجا رہاہے تو کہہ رہے ہیں کہ رکن بلدیہ یا رکن اسمبلی کی جانب سے امداد کا انتظار کیا جا رہاہے اور وہ حاصل ہونے کے بعد ہی سربراہی ممکن بنائی جاسکے گی۔ ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس صورتحال کے سبب روزمرہ کے کام کرنے والوں اور غریب عوام کو شدید تکالیف میں مبتلاء ہونا پڑا ہے اور شہر میں مخیر اور اصحاب ثروت کی جانب سے ان مقامات پر کھانا اور راشن سربراہ کیا جارہا ہے جن مقامات پر غریب بستیاں آباد ہیں اور جن علاقوں میں لوگ کرایہ کے مکانات میں قیام کرتے ہیں۔ ریاستی حکومت کی جانب سے غریب شہریوں کی مدد کے اعلان کیا گیا ہے لیکن ابھی غریب شہریوں کو امداد کی فراہمی کا عمل شروع نہیں کیا گیا جس کے سبب ان متمول اور اہل خیر حضرات کی جانب سے غرباء کی مدد کی جا رہی تھی لیکن یہ مدد بھی ان مقامی لیڈروں کو پسند نہیں آرہی ہے جو اپنے سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے غریب کو بھوکا مارنے بھی تیار ہیں۔ گذشتہ دو یوم سے سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی چند آڈیو کلپس میں جو لوگ کھانے لیا کرتے تھے وہ اب فون کرنے پر صریح انکار کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اگر وہ تقسیم کیا جانے والا کھانا حاصل کرتے ہیں تو انہیں محلہ چھوڑنا پڑے گا۔ شہر حیدرآباد میں اس طرح کی غنڈہ گردی کرتے ہوئے غریبوں کو ہراساں کرنے والے کارندوں کو اگر روکا نہیں گیا تو لوگ بھوک سے مرنا شروع ہوجائیں گے یا پھر وہ ان لوگوں سے نفرت کرنی شروع کردیں گے جو انہیں گھر تک پہنچنے والے راشن اور کھانے سے بھی محروم کررہے ہیں۔شہر حیدرآباد کے کئی علاقو ںسے اس طرح کی شکایات موصول ہورہی ہیں اور لوگ کہہ رہے ہیں کہ انہیں کھانے اور راشن سے محروم کیا جارہاہے۔
