راشن شاپس ، می سیوا سنٹرس کوویڈ خطرہ کے مقامات میں تبدیل

   

حیدرآباد :۔ ایسے وقت جب شہر میں بالخصوص شہر حیدرآباد کے جنوبی علاقوں میں کورونا وائرس کے پازیٹیو کیسیس میں قدرے کمی دکھی جارہی ہے لیکن یہ علاقے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پھر کورونا کے پھیلنے کے مراکز میں تبدیل ہوگئے ہیں کیوں کہ یہ دیکھا جارہا ہے کہ لوگ راشن کے حصول کے لیے فیئر پرائس شاپس پر امڈ پڑ رہے ہیں ۔ جہاں ان کا کافی ہجوم ہورہا ہے جس میں سماجی فاصلہ کی برقراری اور دیگر کوویڈ سے متعلق رہنمایانہ خطوط کو یکسر نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ دو اضلاع حیدرآباد اور رنگاریڈی میں راشن شاپس کی جملہ تعداد 1593 ہے جس میں حیدرآباد میں 674 راشن شاپس ہیں اور ضلع رنگاریڈی میں 919 شاپس ہیں ۔ تاہم ضلع رنگاریڈی میں واقع ۔ 919 فیئر پرائس شاپس میں صرف ایک سرور نگر سرکل میں 217 شاپس ہیں جو راجندر نگر ، ایل بی نگر ، سیری لنگم پلی اور ونستھلی پورم جیسے علاقوں میں پھیلا ہوا ہے ۔ شہر کے کنارے کے علاقوں جیسے حسن نگر ، اندرا نگر ، سلیمان نگر ، شاستری پورم اور گگن پہاڑ اور فلک نما ، مصطفی نگر ، چشمہ بعض گنجان آبادی والے علاقے ہیں جہاں لوگ ماہانہ راشن حاصل کرنے کے لیے بڑی تعداد میں راشن شاپس جاتے ہیں جہاں ان کا اچھا ہجوم ہوجاتا ہے جس میں کوویڈ سے متعلق اصولوں اور قواعد کو نظر انداز کردیا جاتا ہے ۔ ان فیئر پرائس شاپس پر سماجی فاصلہ کی برقراری کو یقینی بنانے کے لیے کوئی مناسب انتظامات نہیں دیکھے جارہے ہیں جہاں کمسن بچوں سے لے کر عمر رسیدہ افراد تک راشن کے حصول کے لیے ان کی باری کا انتظار کرتے ہوئے گھنٹوں قطاروں میں ٹہرے دیکھے جارہے ہیں جس میں سماجی فاصلہ کو ملحوظ نہیں رکھا جارہا ہے ۔ جب لاک ڈاؤن میں نرمی کا وقت ہوتا ہے تو راشن شاپس پر ہجوم کئی گنا بڑھ جاتا ہے ۔ اس طرح ایک بے تربیتی اور بد نظمی کی صورتحال پیدا ہوجاتا ہے جس میں ہر شخص ہجوم سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کوشش میں وہ دوسروں کو ڈھکیل دیتا ہے اور اسے اس میں انفیکشن سے متاثر ہونے کی پرواہ نہیں ہوتی ۔ می سیوا سنٹرس پر بھی اس معاملہ میں کچھ زیادہ فرق نہیں دکھائی دیتا ہے جہاں غریب ، معذور افراد یہ معلوم کرنے کے لیے پہنچتے ہیں کہ آیا حکومت نے ان کے آسرا پنشن کو جاری کیا ہے یا نہیں اس سے می سیوا سنٹرس پر بھی اسی طرح کی بے تربیتی اور بدنظمی کی صورتحال پیدا ہورہی ہے جو ایک چونکا دینے والی آفت کی طرف اشارہ ہے ۔ وارڈ ممبر ، بدویل ، راجندر نگر ، سائی ملک نے کہا کہ ’ فیئر پرائس شاپس ، اور می سیوا سنٹرس پر بہت زیادہ ہجوم کے ان مناظر سے یقیناً حکومت کو ایک غلط پیام جائے گا اور اس سے اس کے انفیکشن کو روکنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر ضرب پڑے گی ۔ اس طرح تحدیدات کے لیے راہ ہموار ہوگی ۔ جب تک لوگ کوویڈ سے متعلق اصول و قواعد پر سختی کے ساتھ عمل نہ کریں ۔ صورتحال تبدیل نہیں ہوگی ‘ ۔ فیئر پرائس شاپس پر بے ترتیبی کی صورتحال پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اسسٹنٹ سیول سپلائز آفیسر ، سرور نگر سرکل بالا سروجانے کہا کہ ’ ہم فیئر پرائس شاپس پر امڈ پڑنے والے عوام کو کنٹرول نہیں کرسکتے ہیں اور یہ ہمارے بس میں نہیں ہے کیوں کہ حکومت کی جانب سے اعلان کئے گئے اضافی چاول کی تقسیم سے لوگ بے قابو ہوگئے ہیں اور زائد چاول کے حصول کے لیے وہ بڑی تعداد میں راشن شاپس پہنچ رہے ہیں جس سے کافی ہجوم ہورہا ہے جس میں سماجی فاصلہ کی برقراری اور دیگر کوویڈ سے متعلق اصول و قواعد کو یکسر نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کوویڈ 19 سے متعلق اصول و قواعد کی پابندی کو یقینی بنانے کے لیے پولیس سے مدد لینے سے ہماری کوئی مدد نہیں ہوسکتی ہے اور کہا کہ جب خود پولیس کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بڑی مشکل پیش آرہی ہے کہ لوگ سڑکوں پر کوویڈ سے متعلق اصول و قواعد پر عمل کریں تو پھر فیئر پرائس ایجنٹس ہر شاپ میں صرف ایک اسسٹنٹ کے ساتھ کس طرح بے ہنگم عوام کو کنٹرول کرسکتا ہے ۔۔