راشن شاپس پر ’ نو اسٹاک ‘ کا بورڈ ، چاول کی قلت

,

   

غریب عوام پریشان حال، حیدرآباد اور پڑوسی اضلاع میں چاول کی تقسیم کا عمل متاثر
حیدرآباد۔/11 اپریل، ( سیاست نیوز) لاک ڈاؤن سے متاثرہ غریب خاندانوں کیلئے حکومت کی جانب سے چاول کی تقسیم کا اعلان کیا گیا لیکن ابھی بھی کئی علاقوں میں عوام راشن کی دکانات سے اناج حاصل کرنے میں محروم ہیں اور مختلف دشواریوں کا سامنا ہے۔ حیدرآباد ، رنگاریڈی، میڑچل، ملکاجگیری اضلاع میں چاول کی قلت پیدا ہوچکی ہے جس کے نتیجہ میں تقسیم کا عمل متاثر ہوا ہے۔ ڈیلرس نے چاول نہ ہونے کے سبب دکانات پر ’ نواسٹاک‘ کا بورڈ لگادیا ہے۔ جاریہ ماہ کی پہلی تاریخ سے ریاست بھر میں چاول کی تقسیم کا آغاز ہوا۔ ابتدائی دو تین دنوں تک ریکارڈ تعداد میں عوام میں چاول کی تقسیم عمل میں آئی تاہم بتدریج چاول کی قلت سے یہ عمل سُست رفتاری کا شکار ہوچکا ہے۔ ریاست بھر میں 87.54 لاکھ سفید راشن کارڈ ہولڈرس ہیں اور استفادہ کنندگان کی تعداد 2.8 کروڑ ہے۔ ہر ایک کو فی کس 12 کیلو چاول تقسیم کرنے کیلئے حکومت نے 3.34 لاکھ ٹن چاول اسٹاک رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ 17 ہزار راشن شاپس سے چاول کی تقسیم کا آغاز ہوا لیکن درمیان میں چاول کی قلت پیدا ہوگئی۔ کل تک ریاست بھر میں 73 لاکھ 17 ہزار 733 کارڈز پر 2.82 لاکھ ٹن چاول تقسیم کیا گیا۔ مزید 25 ہزار ٹن تقسیم کیا گیا تو اپریل کا کوٹہ مکمل ہوجائے گا۔ حیدرآباد ابھی تک 60 فیصد سفید راشن کارڈ ہولڈرس کو چاول تقسیم کیا گیا ہے۔ 5.8 لاکھ راشن کارڈز کے ذریعہ 3.52 لاکھ خاندانوں نے چاول حاصل کیا ہے۔ مزید 2.28 لاکھ خاندانوں کو چاول کی سربراہی باقی ہے۔ میڑچل۔ ملکاجگیری ضلع میں 4.95 لاکھ کارڈز ہیں جن میں سے 3.48 لاکھ خاندانوں نے چاول حاصل کیا ہے۔ ضلع میں 70 فیصد تقسیم کا کام مکمل ہوگیا۔ یکم اپریل سے 15 اپریل تک تقسیم کا عمل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ راشن شاپس پر ’ نو اسٹاک ‘ کا بورڈ ہونے کے سبب غریبوں میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے۔