راشٹرپتی بھون تک مارچ کی کوشش‘پرینکا اور دیگر قائدین گرفتار و رہا

   

کسانوں کو خالصتانی، دہشت گرد اور دیگر ناموں سے بلائے پر شدید تنقید
نئی دہلی : کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی کی قیادت میں کانگریس کے کئی لیڈران آج صبح صدر جمہوریہ سے ملنے کے لیے جا رہے تھے، لیکن اس درمیان کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی، ان کے شوہر رابرٹ واڈرا اور دیگر کانگریس لیڈران کو پولیس نے اس وقت حراست میں لے لیا جب وہ کسانوں کے احتجاج کی حمایت کررہی تھیں ۔ میڈیاکے مطابق صرف کانگریس لیڈر راہول گاندھی اور ان کے ساتھ دو دیگر لیڈروں کو صدر جمہوریہ سے ملنے کی اجازت دی گئی۔ پرینکا گاندھی اور حراست میں لیے گئے دیگر کانگریس قائدین کو بعد میں چھوڑ دیا گیا ہے، لیکن پولیس کی اس کارروائی سے کانگریس انتہائی ناراض ہے۔پولیس نے پرینکا گاندھی اور دیگر کانگریس لیڈران کو اس وقت حراست میں لیا تھا جب وہ راشٹرپتی بھون کی طرف مارچ کر رہے تھے۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی قیادت میں سبھی پارٹی قائدین صدر جمہوریہ کو 2 کروڑ دستخط پر مبنی دستاویز سونپنے جا رہے تھے جو کہ زرعی قوانین کے خلاف کیے گئے تھے۔ حراست میں لیے جانے کے بعد پرینکا گاندھی نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’جوان کسان کا بیٹا ہوتا ہے۔ جو کسانوں کی آواز ٹھکرا رہا ہے، اپنی ضد پر اڑا ہوا ہے، جبکہ ملک کا اَن داتا باہر ٹھنڈ میں بیٹھا ہے، تو اس حکومت کے دل میں کیا جوان، کسان کیلئے عزت ہے یا صرف اپنی سیاست، اپنے سرمایہ دار دوستوں کی عزت ہے؟‘‘پرینکا گاندھی اتنے پر ہی خاموش نہیں ہوئیں، بلکہ کسانوں کو خالصتانی، دہشت گرد اور دیگر ناموں سے بلائے جانے پر مرکز کی مودی حکومت اور بی جے پی پر زبردست تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’کسانوں کو بی جے پی قائدین اور ان کے حامیوں کے ذریعہ الگ الگ ناموں سے بلانا پاپ ہے گناہ ہے۔ اگر حکومت انھیں ملک مخالف کہہ رہی ہے، تو حکومت پاپی ہے۔‘‘