قومی مفادات سے کھلواڑ،کانگریس ترجمان پون کھیرا کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔16۔نومبر (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے رافیل طیاروںکی خریدی میں بڑے پیمانہ پر دھاندلیوں اور کمیشن کی ادائیگی کا الزام عائد کرتے ہوئے اس معاملہ کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ترجمان پون کھیرا نے آج گاندھی بھون میں ارکان پارلیمنٹ اتم کمار ریڈی ، ریونت ریڈی اور دیگر قائدین کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ نریندر مودی حکومت رافیل سودے میں کرپشن اور کمیشن کے معاملات کی پردہ پوشی کر رہی ہے۔ اس معاملہ میں بی جے پی حکومت نے قومی سلامتی اور انڈین ایرفورس کے مفادات کا سودا کیا ہے۔ سرکاری خزانہ کو کئی ہزار کروڑ کا نقصان ہوا۔ تحقیقاتی اداروں پر دباؤ کے ذریعہ اس معاملہ کی پردہ پوشی کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اکتوبر 2018 ء میں سابق مرکزی وزراء یشونت سنہا اور ارون شوری نے سی بی آئی سے رافیل معاملت میں دھاندلیوں کی شکایت کی تھی ۔ ماریشس کے اٹارنی جنرل نے سی بی آئی کو کمیشن کی ادائیگی کے بارے میں دستاویزات پیش کئے۔ وزیراعظم نے مداخلت کرتے ہوئے سی بی آئی ڈائرکٹر کو راتوں رات عہدہ سے ہٹادیا ۔ سی بی آئی ہیڈکوارٹر پر دہلی پولیس کے ذریعہ دھاوا کرایا گیا۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے 126 جنگی طیارے فرانس سے خریدنے کا معاہدہ کیا تھا۔ ایک طیارہ کی قیمت 526 کروڑ مقررکی گئی لیکن نریندر مودی نے طیارہ کی قیمت 1770 کروڑ مقرر کرتے ہوئے معاہدہ کیا ہے۔ منموہن سنگھ حکومت کے معاہدہ کے مطابق فرانس کو ٹکنالوجی منتقل کرنا تھا اور 108 طیارے ہندوستان میں تیار کئے جانے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے 60 تا 80 کروڑ بطور کمیشن ادا کیا ہے۔ اس معاملہ کی آزادانہ تحقیقات ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 36 طیاروں کیلئے 41205 کروڑ اضافی طور پر ادا کئے گئے ۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے اہم دستاویزات حاصل کرتے ہوئے 2019 ء میں کارروائی شروع کی تھی۔ پون کھیرا نے الزام عائد کیا کہ نریندر مودی اپنے قریبی افراد کو بچانے کیلئے رافیل معاملت کی تحقیقات سے انکار کر رہے ہیں۔ سوشین گپتا نامی درمیانی شخص کے خلاف تحقیقات سے گریز کیا جارہا ہے۔ر