میڈیا رپورٹ کے حوالے سے راہول گاندھی کا وزیراعظم مودی پر ایک اور لفظی حملہ ۔ وزارت دفاع کے عہدیدار بھی پرانی معاملت کے قائل
نئی دہلی ۔13 فبروری۔( سیاست ڈاٹ کام ) رافیل مسئلہ پر وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف اپنے لفظی حملوں میں شدت پیدا کرتے ہوئے صدر کانگریس راہول گاندھی نے آج ایک میڈیا رپورٹ کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ اس معاملت کے دفاع کے لئے لڑاکا جٹ طیاروں کی بہتر قیمت اور تیز تر وصولی کی وزیراعظم کی دلیل پاش پاش ہوگئی ہے ۔ اُن کی تنقید کا پس منظر دی ہندو کی رپورٹ ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ رافیل معاملت یوپی اے دور کی پیشکش کے مقابل بہتر شرائط پر نہیں ہوئی ۔ راہول نے ٹوئیٹ کیا کہ پی ایم نے اپنی شخصی رافیل بائی پاس معاملت کا دفاع دو نکات پر کیا ہے ۔ نمبر ایک قیمت اور نمبر دو تیز تر ڈیلیوری ۔ دونوں باتیں آج ہندو کے انکشافات کے ذریعہ چکنا چور ہوگئی ہیں ۔ حکومت نے ماضی میں اس طرح کے تمام الزامات اور رافیل معاملت کے خلاف دعوؤں کو مسترد کیا ہے ۔ انگریزی روزنامہ نے اپنی رپورٹ میں کہاکہ وزارت دفاع کے تین سینئر عہدیدار جو سات رکنی ہندوستانی مذاکرات ٹیم میں متعلقہ شعبہ کے ماہرین رہے ہیں ، اُن کا واضح تاثر ہے کہ جب نریندر مودی حکومت کی 36 تیار لڑاکا طیاروں کیلئے نئی رافیل معاملت بہتر شرائط پر نہیں ہے ، جو ڈسالٹ ایویشن نے سابقہ یوپی اے حکومت کے تحت 126 طیاروں کی حصولیابی کے عمل کے سلسلے میں پیش کئے تھے ۔ چوکیدار چور ہے جیسے نعرے بلند کرتے ہوئے کانگریس ایم پیز بشمول راہول گاندھی ،
یو پی اے چیرپرسن سونیا گاندھی اور سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے رافیل معاملت پر پارلیمنٹ کامپلکس میں گاندھی جی کے مجسمہ کے قریب احتجاج کیا ہے ۔ کانگریس قائدین کو کاغذی جہاز اور پوسٹر تھامے دیکھا گیا جو الزام لگارہے تھے کہ کروڑہا روپئے کی لڑاکا جٹ معاملت میں اسکام ہوا ہے ۔ اخبار کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس کے ترجمان اعلیٰ رندیپ سرجیوالا نے کہاکہ چوری پکڑی گئی ہے ۔ سرجیوالا نے میڈیا رپورٹ کے حوالے سے چار نکات اُجاگر کئے … 36 جٹ طیاروں کی قیمت یوپی اے دور کی پیشکش کے مقابل 55 فیصد زیادہ ہے ، رافیل کے لئے فرن فائٹر کمپنی کی جانب سے 25 فیصد ڈسکاؤنٹ نہ لیتے ہوئے نقصان اُٹھایا گیا ، بینک اور مقتدراعلیٰ ضمانت سے گریز کیا گیا ۔ اور 10 سال تک کوئی طیارہ حاصل نہ ہونے کی وجہ سے لاگت میں بڑھوتری برداشت کرنی پڑے گی ۔ کانگریس کے حملوں سے ایک روز قبل راہول گاندھی نے وزیراعظم کوغداری اور قانون سرکاری راز کی خلاف ورزی کا مورد الزام ٹھہرایا تھا کیونکہ انھوں نے رافیل جٹ کنٹراکٹ میں انیل امبانی کے درمیانی آدمی کی طرح کام کیا۔ اس ضمن میں انھوں نے ایک ای میل کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ بزنسمین ہندوستان اور فرانس کے درمیان اس معاملت کو قطعیت دیئے جانے سے چند روز قبل ہی پورے معاملے سے واقف ہوگیا تھا۔ تاہم بی جے پی نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ای میل مبینہ طورپر ایک ایئربس ایکزیکٹیو کی جانب سے بھیجا گیا جس میں رافیل کا نہیں بلکہ کوئی ہیلی کاپٹر معاملت پر تذکرہ کیاگیا ہے ۔