قطعی فیصلے تک کونسل کا الیکشن منعقد نہ کرنے حکومت کو ہدایت، نوٹس کی اجرائی
حیدرآباد۔19 جولائی (سیاست نیوز) ٹی آر ایس سے کانگریس میں شامل ہونے والے رکن کونسل راملو نائک کو آج سپریم کورٹ سے راحت ملی ہے۔ سپریم کورٹ نے تلنگانہ حکومت کو ہدایت دی کہ مقدمہ کے فیصلے تک ایم ایل سی نشست کے لیے الیکشن منعقد نہ کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے تلنگانہ حکومت اور صدرنشین قانون ساز کونسل کو نوٹس جاری کی ہے۔ راملو نائک کو صدرنشین کونسل نے رکنیت سے نااہل قرار دیا تھا جسے انہوں نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ ہائی کورٹ نے گزشتہ ہفتے ان کی درخواست کو مسترد کردیا اور صدرنشین کے فیصلے کو دستور کے مطابق قرار دیا تھا۔ راملو نائک کے علاوہ یادو ریڈی اور بھوپتی ریڈی کی درخواستوں کو بھی تلنگانہ ہائی کورٹ نے مسترد کردیا۔ انتخابات سے عین قبل راملو نائک اور یادو ریڈی نے ٹی آر ایس سے انحراف کرتے ہوئے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ ٹی آر ایس کی شکایت پر صدرنشین کونسل نے ان کے خلاف کارروائی کی اور رکنیت سے نااہل قرار دیا۔ دونوں ارکان نے ہائی کورٹ سے خواہش کی تھی کہ حکومت کو سپریم کورٹ کے فیصلے تک دونوں نشستوں کے لیے الیکشن کرانے سے روکا جائے۔ راملو نائک نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست داخل کی۔ سینئر کونسل سلمان خورشید نے ان کی جانب سے بحث کی اور صدرنشین کونسل کے فیصلے کو چیلنج کیا۔ عدالت نے درخواست کو سماعت کے لیے قبول کرتے ہوئے تلنگانہ حکومت کو قطعی فیصلے تک کونسل کے انتخابات منعقد نہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ راملو نائیک کا استدلال تھا کہ وہ گورنر کے کوٹے سے کونسل کے لیے منتخب ہوئے ہیں لہٰذا ان پر انحراف قانون لاگو نہیں ہوتا۔ سپریم کورٹ نے سلمان خورشید کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے تلنگانہ حکومت کو الیکشن سے باز رہنے کی ہدایت دی۔ تلنگانہ حکومت اور صدرنشین قانون ساز کونسل کو سپریم کورٹ کی نوٹس کا جواب دینا ہوگا۔ اسی دوران راملو نائک نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے تلنگانہ حکومت کے منہ پر طمانچہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کے کوٹے میں سیاسی قائدین کو نہیں بلکہ سماجی خدمات انجام دینے والے افراد کو نامزد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ سے ضرور انصاف ملے گا۔