کانگریس قائدین میں بے چینی، بی جے پی کے اثر سے متاثر ہونے کی شکایت
حیدرآباد: ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کیلئے سینئر لیڈر اور سابق صدر پردیش کانگریس پونالہ لکشمیا کی جانب سے ایک لاکھ روپئے کا عطیہ دینے کا معاملہ کانگریس پارٹی میں بحث کا موضوع بن چکا ہے ۔ پونالہ لکشمیا جو پارٹی کے سینئر لیڈر ہیں، انہوں نے نہ صرف ایک لاکھ 116 روپئے کا عطیہ دیا بلکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس کا اظہار کیا۔ ملک بھر میں کانگریس پارٹی سیکولر نظریات پر عمل پیرا ہونے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن پارٹی کے بعض قائدین کے غلط فیصلے دیگر قائدین کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ فرقہ پرست بی جے پی سے مقابلہ کرنے میں اس طرح کے فیصلے رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ تلنگانہ میں بی جے پی کی سرگرمیوں میں اضافہ اور حالیہ انتخابات میں بہتر مظاہرے کے بعد سے کانگریس اور ٹی آر ایس کے کئی قائدین نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی ۔ مزید کئی قائدین مناسب وقت پر بی جے پی میں شمولیت کے منتظر ہیں ۔ بی جے پی کی مہم کا اثر ٹی آر ایس اور کانگریس میں دیکھا جارہا ہے ۔ ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی کرانتی کرن نے رام مندر کے لئے فنڈس اکھٹا کرنے کی ریالی میں حصہ لیا تھا۔ پونالہ لکشمیا نے ایک لاکھ 116 روپئے کا عطیہ دیا جس سے صاف ظاہر ہے کہ بی جے پی کا فرقہ وارانہ ایجنڈہ کئی قائدین کیلئے توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اپنے سیاسی مستقبل کو بچانے اور انتخابی حلقوں میں اکثریتی رائے دہندوں کی تائید حاصل کرنے کیلئے اس طرح کے قدم اٹھائے جارہے ہیں۔ ہندو ووٹ بینک کو اپنے حق میں کرنے کے سلسلہ میں رام مندر کی تعمیر کے لئے عطیہ آسان ذریعہ دکھائی دے رہا ہے ۔ پونالہ لکشمیا نے اپنے وظیفہ کی رقم سے یہ خطیر عطیہ دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند سے متاثر ہوکر عطیہ دے رہے ہیں کیونکہ صدر جمہوریہ نے بھی مندر کی تعمیر کیلئے عطیہ دیا ہے۔ پونالہ لکشمیا نے یہاں تک کہہ دیا کہ رام مندر کی تعمیر کو سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہئے۔ کانگریس کے کئی قائدین نے پونالہ لکشمیا کے اس اقدام پر نکتہ چینی کی ہے تاہم کوئی بھی قائد کھل کر اظہار خیال کیلئے تیار نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض قائدین نے اس معاملہ کو پارٹی کے جنرل سکریٹری انچارج مانکیم ٹیگور سے رجوع کیا ہے جو ان دنوں حیدرآباد کے دورہ پر ہے۔