رام مندر کی تعمیرکا کام تیزی سے جاری جبکہ مسجد کی تعمیر کا ابھی تک آغاز نہیں

   

مسجد کیلئے فنڈز کی کمی، حکومت اور حکام کی ساری توجہ رام مندر پر،مسلم ٹرسٹ کو مایوسی
حیدرآباد۔/4 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق ایودھیا میں بابری مسجد کی اراضی کو مندر کیلئے حوالے کرنے کے بعد رام مندر کی تعمیری سرگرمیوں میں تیزی آچکی ہے جبکہ چند کیلو میٹر کے فاصلہ پر مسجد کی تعمیر کا اعلان کیا گیا تھا لیکن آج تک تعمیری کام شروع نہیں ہوسکا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اور ہندو تنظیموں کو صرف رام مندر کی تکمیل کی فکر ہے تاکہ آئندہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو فائدہ پہنچے۔ بی جے پی نے 2024 لوک سبھا انتخابات سے قبل رام مندر کے افتتاح کا منصوبہ بنایا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مسجد کی تعمیر کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے فنڈز مختص نہیں کئے گئے جس کے نتیجہ میں انڈو اسلامک کلچرل فاونڈیشن نے تعمیری کاموں کا آغاز نہیں کیا۔ فاونڈیشن کا کہنا ہے کہ اس کے پاس پراجکٹ کے ڈیولپمنٹ چارجس کی ادائیگی کیلئے بھی رقم نہیں ہے۔ مسجد کی تعمیر کیلئے انڈو اسلامک کلچرل فاونڈیشن کے تحت ٹرسٹ قائم کیا گیا جس کے تحت ایک ہاسپٹل بھی تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر ایودھیا میں دھنی پور میں مسجد کیلئے 5 ایکر اراضی الاٹ کی گئی۔ یہ اراضی اتر پردیش سنی سنٹرل وقف بورڈ کو الاٹ کی گئی۔ جاریہ سال فروری میں ایودھیا ڈیولپمنٹ اتھاریٹی نے مسجد پراجکٹ کو منظوری دی۔ طویل انتظار کے بعد مسجد پراجکٹ کو منظوری دی گئی۔ ٹرسٹ کے ترجمان اختر حسین کا کہنا ہے کہ پراجکٹ کی منظوری کیلئے مقامی حکام کو ڈیولپمنٹ چارجس کی ادائیگی باقی ہے۔ اس کے علاوہ پراجکٹ کیلئے کئی کروڑ روپئے درکار ہوں گے۔ ٹرسٹ کے پاس ڈیولپمنٹ چارجس کی ادائیگی کیلئے بھی بجٹ نہیں ہے لہذا تعمیری کاموں کو موخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مسجد کے ساتھ عصری سہولتوں سے آراستہ ہاسپٹل کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ ٹرسٹ نے مسجد کے ڈیولپمنٹ چارجس ادا کرتے ہوئے مسجد کی تعمیر شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ آئندہ دو ماہ میں ٹرسٹ مسجد کی تعمیر کیلئے فنڈز جمع کرے گا۔ اس سلسلہ میں مساعی جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسجد ، ہاسپٹل اور کمیونٹی کچن کی تعمیر کیلئے علحدہ بینک اکاؤنٹس کھولے گئے ہیں۔ فی الوقت ٹرسٹ کے اکاؤنٹ میں محض 40 لاکھ روپئے جمع ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ مسجد پراجکٹ کا رام مندر پراجکٹ سے تقابل نہیں کیا جاسکتا۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں حکومت کی جانب سے تیقن دیا گیا تھا کہ رام مندر کے فاصلہ پر عالیشان مسجد تعمیر کی جائے گی لیکن بابری مسجد کی اراضی حاصل ہوتے ہی حکام نے ساری توجہ مندر کی تکمیل پر مرکوز کردی اور مسجد کی تعمیر کو نظرانداز کردیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مقامی مسلم جماعتوں اور تنظیموں نے بھی اس معاملہ میں کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی ہے۔