رام نومی پر فرقہ وارانہ فساد کے 28ملزمین کی رہائی

   

ممبئی: مہاراشٹرا کے شہر بیڑ کے قصبہ کیج میں 24 مارچ کو افطار کے وقت ہندو اور مسلمانوں کے درمیان اس وقت تشد دپھوٹ پڑا تھا جب ہندوؤں نے زور زور سے ڈی جے بجانا شروع کردیا اور نعرے بازی کرنے لگے۔شرکاء جلوس نے عزیز پورہ جامع مسجد کے سامنے جلوس روک کر جم کر رقص کیا اور اسلام مخالف نعرے بھی لگائے، مقامی مسلمانوں کے سمجھانے کے باوجود شرکاء جلوس نے جلوس کو آگے نہیں بڑھایا اور مغرب کے وقت تقریباً دو گھنٹے تک دھینگا مشتی کرتے رہے، اسی درمیان فرقہ پرستوں کی جانب سے مسجد اور مسلمانوں کے اوپر پتھراؤ کیا گیا جس کے جواب میں دونوں فرقوں کے درمیان جھڑپ ہوگئی۔ تقریباً دو گھنٹوں تک علاقے کا ماحول پرتشدد رہا، ایس پی بیڑ کی فوری مداخلت کے بعد حالات پر قابو پایا گیا۔پولیس نے ہندو اورمسلمانو ں دونوں کے خلاف تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے دونوں فرقوں کے کل 57 لوگوں کو گرفتار کیااور دس لوگوں کو مفرور قرارد یا۔ملزمین پر مہاراشٹرا پولس ایکٹ کی دفعہ 135کا بھی اطلاق کیا گیا ہے۔گرفتاری کے بعد ملزمین کوامبا جوگائی ایڈیشنل سیشن جج کے سامنے پیش کیا گیا جہاں پہلے انہیں پولس تحویل میں بھیجا گیا پھر ان کی عدالتی تحویل ہوئی، عدالتی تحویل میں بھیجے جانے کے بعد ملزمین کی ضمانت پر رہائی کی درخواست داخل کی گئی تھی جسے عدالت نے گزشتہ روز منظور کرلیا تھا۔جس کے بعد آج ملزمین کی اسلامپور جیل سے رہائی عمل میں آئی۔اس مقدمہ میں گرفتار 34 مسلمانوں کی ضمانت عرضداشت جمعیۃ علماء مہاراشٹرا(ارشد مدنی) کے توسط سے داخل کی گئی تھی جس کے بعد امبا جوگائی عدالت کے جج دیپک کوچے نے ملزمین کو فی کس پچیس ہزار روپئے کے ذاتی مچلکہ پر رہا کیئے جانے کا حکم جاری کیا۔