اسلام آباد : زنخوں کے بارے میں عام تاثر ہے کہ وہ اپنا گزر بسر کرنے کیلئے یا تو بھیک مانگتے نظر آتے ہیں یا پھر شادی بیاہ ودیگر تقریبات میں ڈانس کرتے ہیں،لیکن اسلام آباد کی زنخہ رانی خان نے ثابت کر دکھا یا کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں اور انہوں نے تمام غیر قانونی اور برے سمجھے جانے والے کام چھوڑ کر اپنی کمیونٹی کے افراد کو قرآن پاک کی تعلیم سے آراستہ کرنے کا فیصلہ کیا۔برطانوی نشریاتی ادارہ کو انٹرویو دیتے ہوئے رانی خان نے بتایا کہ ‘میں 20 سال تک ڈانس کرتی رہی ہوں، پہلے خواجہ سراؤں کی گرو تھی لیکن جب سے مدرسہ کھولا ہے تو اب میرے ساتھی مجھے اُستانی کہتے ہیں’۔انہوں نے کہا کہ ‘ہمارے معاشرے میں خواجہ سرا 12 تا 13 برس کی عمر میں گھر سے نکل جاتے ہیں، ہر جگہ مسجد اور مدرسہ موجود ہے جہاں بچے قرآن پاک پڑھنے آتے ہیں لیکن زنخہ کمیونٹی کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ جب وہ بچوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں تو انہیں مختلف قسم کے القابات سے پکارا جاتا ہے جس سے ان کی سوچ تبدیل ہو جاتی ہے اور دینی و دنیاوی تعلیم چھوڑ دیتے ہیں’۔رانی خان نے مزید بتایا کہ ‘میں نے 20 سال کی کمائی جمع کی اور پھر مدرسہ کھولا، اب میں نے بھیک مانگنا اور ناچنا چھوڑ دیا ہے، سیکس ورک تو میں نے بہت پہلے چھوڑ دیا تھا’۔انہوں نے کہا کہ ‘میں بار بار اللہ سے توبہ کرتی رہی ہوں اور معافیاں مانگتی رہی ہوں۔