راکیش ریڈی قوم اور خواتین سے معذرت خواہی کریں: ایم اے فہیم

   

اندرا گاندھی کی توہین ناقابل فراموش، آئندہ دس سال تک ریاست میں کانگریس حکومت قائم رہے گی
حیدرآباد ۔26 ۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ فوڈ کارپوریشن کے صدرنشین ایم اے فہیم نے اسمبلی میں بی جے پی کے رکن اسمبلی راکیش ریڈی کی جانب سے آنجہانی سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کی توہین کرنے پر سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں قوم اور خواتین سے معذرت خواہی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایم اے فہیم نے بتایا کہ اندرا گاندھی کی خدمات ملک کے لئے ناقابل فراموش ہے۔ انہوں نے ملک کو ترقی دینے اور پسماندہ طبقات کے لئے جو کارنامے انجام دیئے ہیں، وہ تاریخ کے سنہرے پنوں میں درج ہے۔ ایسی خاتون کے خلاف بی جے پی کے رکن اسمبلی کا نازیبا بیان ان کی تربیت اور بی جے پی کے نظریہ کو واضح کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 56 انچ کے سینہ رکھنے کا دعویٰ کرنے والے وزیراعظم نریندر مودی صرف پاکستان کو دھمکیاں دینے اور ہندوتوا کا کارڈ کھیلنے میں مصروف ہیں جبکہ اندرا گاندھی نے پاکستان کے دو ٹکڑے کرتے ہوئے ہندوستان کو مستحکم بنانے میں اہم رول ادا کیا تھا۔ بی جے پی قائدین اسمبلی کو پہنچنے اور میڈیا میں بیانات دینے سے قبل کانگریس پارٹی اور اس کی تاریخ کا جائزہ لے کر پہنچے۔ ملک کی آزادی میں کانگریس نے جہاں اہم رول ادا کیا تھا، وہیں کانگریس کے وزرائے اعظم نے ملک کی ترقی کے ساتھ سماج کے تمام طبقات کی فلاح و بہبود میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ ایسے عظیم قائدین کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بجائے ان کی توہین کرنا بی جے پی قائدین کی عادت بن گئی۔ایم اے فہیم نے بی جے پی کے رکن اسمبلی راکیش ریڈی پر زور دیا کہ وہ اندرا گاندھی کے خلاف ادا کئے گئے الفاظ سے فوری دستبردار ہوجائیں اور معذرت خواہی کریں۔ انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ اسمبلی کے لئے منتخب ہونے والے راکیش ریڈی اپنے آپ کو تلنگانہ میں ہیرو بنانے کیلئے متنازعہ مسائل کو چھیڑتے ہوئے سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالیہ اسمبلی اجلاس کے دوران ہی انہوں نے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے ہندوؤں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کا مشورہ دیا تھا اور ساتھ ہی مستقبل میں حیدرآباد پر مسلمانوں کا غلبہ ہوجانے کا ریمارکس کیا تھا اور ساتھ میں یہ بھی کہا تھا کہ 2029 میں بی جے پی حکومت میں آئے گی اور وہ وزیر داخلہ بنیں گے۔ ایم اے فہیم نے راکیش ریڈی کو خواب دیکھنا چھوڑدینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ 10 سال تک ریاست میں کانگریس حکومت قائم رہے گی۔2