راگھوا کنسٹرکشن پر غیرقانونی کانکنی کا الزام، تحقیقات کا مطالبہ

   

ہریش راؤ کا حکومت کو کھلا چیلنج، الزامات غلط ہو تو پھانسی دی جائے
حیدرآباد ۔ 28 مارچ (سیاست نیوز) اسمبلی میں حکمران جماعت کانگریس اور اصل اپوزیشن بی آر ایس کے درمیان شدید لفظی جنگ دیکھنے میں آئی جب ہریش راؤ نے ریاستی وزیر پی سرینواس ریڈی سے منسلک ’’راگھوا کنسٹرکشن‘‘ پر غیرقانونی کانکنی کے سنگین الزامات عائد کئے۔ انہوں نے کہا کہ شمس آباد منڈل کے کوتوال گوڑہ موضع میں بغیر اجازت ایک بڑا اسٹون کرشر چلایا جارہا ہے جو سرکاری خزانے کو نقصان پہنچارہا ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ محکمہ کانکنی کی جانب سے بارہا نوٹس دینے کے باوجود حکومت کارروائی کیوں نہیں کررہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت دوہرا معیار اپنا رہی ہے جہاں اپوزیشن قائدین کے خلاف فوری کارروائی ہوتی ہے وہیں حکمران جماعت سے جڑے افراد کو تحفظ دیا جارہا ہے۔ انہوں نے بی آر کے رکن اسمبلی مہیپال ریڈی کے بھائی کی گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک معمولی غلطی پر انہیں فوری گرفتار کیا گیا لیکن اسی نوعیت کے الزامات کے باوجود راگھوا کنسٹرکشن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔ ہریش راؤ نے ریاستی وزیر پی سرینواس ریڈی کے بیانات اور سوشل میڈیا ردعمل پر بھی تنقید کا سخت نشانہ بنایا اور کہا کہ اگر واقعی بے قصور ہیں تو انہیں فوری اپنے عہدے سے استعفیٰ دیکر غیرجانبدارانہ تحقیقات کا سامنا کرنا چاہئے۔ انہوںنے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس الزامات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ ہریش راؤ نے حکومت کو کھلا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے الزامات غلط ثابت ہوتے ہیں تو انہیں پھانسی دی جائے یا انہیں معطل کیا جائے۔ اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو راگھوا کنسٹرکشن کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے۔2