ممبئی: کانگریس کے سابق صدر اور پارٹی کے رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی ان دنوں ’بھارت جوڑو یاترا‘ میں مصروف ہیں۔ اس دوران جو خبریں آرہی ہیں وہ تشویشناک ہیں۔ درحقیقت، راہول کی قیادت میں جاری ’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ کیلئے اندور کے خالصہ اسٹیڈیم میں 28 نومبر کی رات ممکنہ توقف ہوگا۔ اطلاعات پر یقین کیا جائے تو رات کے آرام کے دوران بم دھماکے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے جس کے بعد انتظامیہ حرکت میں آگیا ہے۔نامعلوم شخص کی جانب سے خط لکھ کر دھمکیاں دی گئی ہیں۔ دھمکی پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ اس بارے میں پولیس کمشنر ہری نارائن چاری مشرا نے بتایا کہ ایک نامعلوم شخص نے جونی اندور علاقے میں سویٹ ہاوس کی دکان کے پتے پر ایک خط بھیجا اور دھمکی دی ہے کہ اگر راہول کی قیادت والی بھارت جوڑو یاترا خالصہ اسٹیڈیم میں رات کو آرام کرتی ہے تو شہر میں بم دھماکے ہو سکتے ہیں۔ خط میں راہول گاندھی کو بم سے اڑانے کے معاملے کا براہ راست ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ پولیس کمشنر نے مزید کہا کہ اس خط کی بنیاد پر پولیس نے تعزیرات ہند کی دفعہ 507 (نامعلوم شخص کی طرف سے مجرمانہ دھمکی) کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔ دھمکی آمیز خط کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ تاہم ہمیں شبہ ہے کہ یہ حرکت کسی شرارتی عناصر نے کی ہے۔تاہم کانگریس خطرے کو لے کر سنجیدہ ہے۔ ریاستی کانگریس کے سکریٹری نیلابھ شکلا نے مطالبہ کیا کہ اس کی سنجیدگی سے تحقیقات کی جانی چاہئے اور اندور میں راہول کی ’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ کے داخلے کے بعد سیکوریٹی بڑھانے کا کام کیا جانا چاہئے۔ واضح رہے کہ خالصہ اسٹیڈیم سے متعلق تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب 8 نومبر کو اس مقام پر گرو نانک جینتی کے مذہبی پروگرام میں کمل ناتھ کے استقبال کے بعد مشہور کیرتنکار من پریت سنگھ کانپوری نے 1984 کے سکھ مخالف تشدد کے بارے میں بات کی۔ منتظمین کی طرف واضح اشارہ کیا تھا اور اسٹیج سے منتظمین پر سخت الفاظ میں ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ اس تنازعہ کے بعد بی جے پی کے مقامی لیڈروں نے اعلان کیا ہے کہ اگر ریاستی کانگریس کے صدر کمل ناتھ راہول کی قیادت میں ’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ کے ساتھ اسٹیڈیم میں قدم رکھتے ہیں تو بی جے پی کارکن سیاہ جھنڈے دکھا کر ان کی مخالفت کریں گے۔ 1984 میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد پیش آئے سکھ مخالف فسادات میں کمل ناتھ کے کردار پر اکثر بی جے پی قائدین نے الزام لگایا ہے۔ لیکن کمل ناتھ اور دیگر اعلیٰ کانگریسی قائدین اسے یکسر مسترد کرتے رہے ہیں۔
ٹویٹر نے ملازمین کو دفاتر سے باہر کیا
لاس اینجلس: ٹوئٹر نے جمعہ کو ملازمین سے کہا کہ کمپنی کے دفتر کی عمارتوں کو فوری اثر کے ساتھ عارضی طور پر بند کیا جارہا ہے۔ ٹویٹر نے ملازمین کے بڑے پیمانے پر استعفوں کی اطلاعات کے درمیان اپنے دفاتر کو عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ ملازمین ٹویٹ کر رہے ہیں کہ وہ کمپنی چھوڑ رہے ہیں۔عملے کو بتایا گیا کہ دفاتر پیر 21 نومبر کو دوبارہ کھل جائیں گے ۔ اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔