راہول گاندھی اور ریونت ریڈی دستور کا مذاق اڑا رہے ہیں: کے ٹی آر

   

منحرف ارکان اسمبلی کو بچانے کی کوشش جمہوری اقدار کی خلاف ورزی ہے
حیدرآباد ۔15 ۔ جنوری (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے کانگریس قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ راہول گاندھی اور تلنگانہ کے چیف منسٹر ریونت ریڈی پارٹی سے منحرف ہونے والے ارکان اسمبلی کے معاملہ میں دستور اور جمہوریت اقدار کی مکمل خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ کانگریس کا طرز عمل ہر قدم پر دستوری اداروں کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ کے ٹی آر نے آج اسپیکر کی جانب سے دو ارکان اسمبلی کو کلین چٹ دینے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس وہی جماعت ہے جس نے ماضی میں اسپیکر کے نظام کو کمزور کیا اور منحرف ارکان اسمبلی کے یادیا اور پوچارم سرینواس ریڈی کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے سیاسی دباؤ کے ذریعہ انہیں بچانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وہی غیر جمہوری قوتیں جنہوں نے پہلے پانچ منحرف ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دینے سے روکا تھا، آج بھی دستوری اقدار کی پامالی میں ملوث ہوئے ہیں ۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ نے کہا کہ عوام کے سامنے واضح شواہد موجود ہیں کہ مذکورہ ارکان اسمبلی نے پارٹی تبدیل کی ہے۔ اس کے باوجود ثبوتوں کی کمی کا بہانہ بنانا مقدس قانون ساز اسمبلی کی توہین ہے۔ کے ٹی آر نے دعویٰ کیا ہے کہ اس طرز عمل سے ایک بار پھر ثابت ہوگیا ہے کہ کانگریس نہ آئین کا احترام کرتی ہے اور نہ ہی عدالتوں کے فیصلہ کا۔ حالیہ فیصلہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکمراں جماعت منحرف ارکان اسمبلی کے حلقوں میں ضمنی انتخابات کرانے سے خوفزدہ ہے کیونکہ گرام پنچا یت کے انتخابات میں عوام نے کانگریس کو سخت پیغام دیا ہے جس کی وجہ سے کانگریس پارٹی منحرف ارکان کو بچانے کی تمام کوشش کر رہی ہے۔ کے ٹی آر نے اعلان کیا کہ عوامی فیصلوں کی توہین کرنے والوں کے خلاف بی آر ایس کی جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی ، جب تک کہ ذمہ دار عناصر کو سبق نہیں سکھایا جاتا۔2