راہول گاندھی سے سدھو کی ملاقات ،پنجاب کی صورتحال کا تذکرہ

,

   

صدر کانگریس کو مکتوب کی پیشکشی ، چیف منسٹر سے اختلافات اور اہم وزارتی قلمدان سے محرومی پر اظہارِ افسوس
چندی گڑھ ۔ 10 جون (سیاست ڈاٹ کام) پنجاب کے وزیر اور کانگریس کے لیڈر نوجوت سنگھ سدھو نے آج دہلی میں اپنی پارٹی کے صدر راہول گاندھی سے ملاقات کی اور انہیں اپنی ریاست کی ’صورتحال‘ سے واقف کرایا۔ اس سے چند دن قبل چیف منسٹر امریندر سنگھ نے کابینہ میں معمولی ردوبدل کے دوران سدھو کو محکمہ مقامی حکومت کے کلیدی قلمدان سے محروم کردیا تھا۔ سدھو نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’کانگریس کے صدر سے ملاقات کی انہیں میرا مکتوب حوالے کیا اور صورتحال سے واقف کرایا‘۔ کرکٹر سے سیاست داں بننے والے سدھو نے راہول گاندھی سے ملاقات کی ایک تصویر بھی پوسٹ کی جس میں پارٹی صدر کے ساتھ جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی وڈرا اور احمد پٹیل بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ سدھو نے گزشتہ ہفتہ راہول گاندھی سے ملاقات کی کوشش کی تھی جب انہیں مقامی حکومت، سیاحت اور تہذیبی اُمور جیسے اہم قلمدانوں سے محروم کردیا گیا تھا۔ کابینہ میں ردوبدل کے بعد سدھو کو توانائی اور قابل تجدید توانائی کے قلمدان دیئے گئے ہیں۔ سدھو جو بی جے پی میں تھے، 2017ء اسمبلی انتخابات سے عین قبل اپنی پارٹی سے مستعفی ہوکر کانگریس میں شامل ہوئے تھے، حالیہ عرصہ کے دوران چیف منسٹر کے ساتھ ان کے اختلافات منظر عام پر آئے۔ اس دوران یہ تبدیلیاں اس وقت رونما ہوئیں جب سدھو نے جمعرات کو کابینہ کے اجلاس میں شرکت نہیں کی اور اس کے بجائے خود اپنی سرکاری رہائش گاہ پر میڈیا کانفرنس سے خطاب کیا تھا۔ امریندر سنگھ اور سدھو کے درمیان کشیدگی اس وقت منظر عام پر آگئی تھی جب گزشتہ ماہ چیف منسٹر نے کرکٹر سے سیاست داں بننے والے سدھو کو محکمہ مقامی حکومت کے قلمدان کی ذمہ داریوں سے نمٹنے کیلئے نااہل قرار دیا تھا اور الزام عائد کیا تھا کہ ان کی غیرموثر کارکردگی کے نتیجہ میں شہری علاقوں میں لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کا مظاہرہ ناقص رہا۔ چیف منسٹر امریندر سنگھ نے یہ بھی کہا تھا کہ پنجاب میں شہری ووٹ بینک ہمیشہ کانگریس کی تائید کرتا رہا ہے ، لیکن ترقیاتی کاموں کی تکمیل میں سدھو کی ناکامی کا پارٹی پر اثر پڑا ہے۔ سدھو نے کئی مرتبہ ہدایات کو نظرانداز کردیا تھا۔ بعدازاں چیف منسٹر نے ہفتہ کو مشاورتی گروپ تشکیل دیا تاکہ سرکاری اسکیمات پر تیز رفتار عمل آوری کی جاسکے، تاہم سدھو نے جمعرات کو کہا تھا کہ ان کے محکمہ نے برسرعام خود انہی کو نظرانداز کردیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں غیرضروری طور پر موردالزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا اور نہ ہی کسی معاملے میں نظرانداز کیا جاسکتا ہے، کیونکہ وہ مسلسل پابندی کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتے رہے ہیں ۔واضح رہے کہ سدھو کی دو سال قبل کانگریس میں شمولیت کے موقع پر ہی کیپٹن امریندر سنگھ کے ساتھ ان کے اختلافات منظر عام پر آگئے تھے۔