راہول گاندھی کا آج تشدد سے متاثرہ منی پور کا دورہ

,

   

ہاتھرس بھگڈراور گجرات میں حادثات کا شکار افراد کے بعد منی پور متاثرین سے ملاقات کا پروگرام

نئی دہلی: کانگریس لیڈر راہول گاندھی 8 جولائی کو منی پور کا دورہ کریں گے۔ یہ شمال مشرقی ریاست منی پورگزشتہ چند ماہ سے تشدد کی آگ میں جل رہی ہے۔ راہول گاندھی وہاں کانگریس لیڈروں سے بھی ملاقات کریں گے۔ اس سے پہلے وہ ہاتھرس کے دورے پر گئے تھے۔ اس کے بعد راہول گاندھی گجرات پہنچے۔ ہاتھرس اور احمد آباد کے بعد راہول گاندھی نے منی پور جانے کا اعلان کیا ہے۔ریاستی کانگریس کے ایک سینئر قانون ساز نے کہا کہ راہول گاندھی پیر کی صبح امپھال پہنچیں گے اور انہیں ایک ہیلی کاپٹر میں صبح تقریباً 10 بجے کے قریب فساد سے متاثرہ ضلع جیریبام لے جایا جائے گا۔لوک سبھا اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کے شمال مشرقی ریاست کے دورے سے ایک دن قبل منی پور کانگریس کے لیڈروں نے اتوار کو پارٹی لیڈر گریش چوڈانکر سے ملاقات کی۔ راہول گاندھی جیریبام ریلیف کیمپوں میں مقیم اندرونی طور پر بے گھر افراد (IDPs) سے بات چیت کریں گے۔دورہ کے پیش نظر جیری بام ضلعی انتظامیہ نے حفاظتی انتظامات کو سخت کر دیا ہے۔ حکام نے جریبم کو ‘نو فلائی زون’ قرار دیا ہے اور کسی بھی شکل میں ہوائی فوٹوگرافی اورویڈیوگرافی پر پابندی لگا دی ہے۔ جیری بام سے راہول گاندھی سڑک کے ذریعے چورا چند پور ضلع جائیں گے اور امپھال واپسی کے دوران وہ بشنو پور کے مویرانگ میں آئی ڈی پیز سے ملاقات کریں گے۔ قابل ذکر ہے کہ راہول گاندھی نے منی پور کے تھوبل علاقہ سے ہی بھارت جوڑو نیائے یاترا شروع کی تھی۔ راہول منی پور میں جاری تشدد کو لے کر مرکزی حکومت پر لگاتار حملہ کر رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ پارلیمنٹ میں بھی یہ مسئلہ اٹھا چکے ہیں۔لوک سبھا انتخابات میں کانگریس نے منی پور کی دو لوک سبھا سیٹوں پر جیت کا جھنڈا لہرایا ہے۔ کانگریس لیڈروں کا الزام ہے کہ مرکزی حکومت منی پور کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہے۔ وہ منی پور کے ساتھ ایسا سلوک کر رہی ہے جیسے یہ اس ملک کا حصہ ہی نہیں ہے۔ اس تشدد کی وجہ سے اب تک منی پور میں سینکڑوں لوگ اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔حال ہی میں منی پور میں جاری تشدد پر بیان دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ ہم منی پور میں حالات کو معمول پر لانے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ اب تک 11 ہزار سے زائد ایف آئی آر درج اور 500 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ منی پور کے بیشتر حصوں میں اسکول، کالج اور دیگر ادارے بند ہیں۔منی پور میں ذات پات کے تشدد کا آغاز اس وقت ہوا جب ہائی کورٹ نے میتئی کمیونٹی کو قبائلی برادری کا درجہ دے کر ریزرویشن کی راہ ہموار کی۔ جس کی کوکی برادری نے مخالفت کی۔ بعد ازاں یہ احتجاج اس قدر پرتشدد ہو گیا کہ لوگ ایک دوسرے کو قتل کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ اس تشدد میں اب تک سینکڑوں لوگ اپنی جانیں گنوا چکے ہیں اور ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں۔ اس کو لے کر اپوزیشن پارٹیاں بھی مرکزی حکومت پر حملہ آور ہیں۔ یہی نہیں گزشتہ سال اس احتجاج کی آڑ میں دو خواتین کو برہنہ کر کے پریڈ بھی کی گئی تھی۔

ہاتھرس متاثرین سے متعلق یوگی کو راہول کا مکتوب

نئی دہلی : کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے ہاتھرس بھگدڑ کے متاثرین کی تکلیف کے حوالے سے اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو خط لکھ کر مالی امداد میں اضافہ کرکے جلد از جلد ان کی مدد کرنے کی اپیل کی ہے اور واقعہ کے لئے مقامی انتظامیہ کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔راہول گاندھی نے لکھا کہ انہوں نے بھگدڑ حادثے سے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کرکے ان کی تکلیف محسوس کرکے ان مسائل کو سمجھنے کی کوشش کی ہے اور اس مسئلہ سے واقف کراتے ہوئے ان کی مالی امداد میں اضافہ کرنے پر زور دیا ہے ۔انہوں نے وزیراعلیٰ سے سوگوار خاندانوں کو جلد از جلد امداد فراہم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ دکھ کی اس گھڑی میں انہیں اجتماعی ہمدردی اور امداد کی ضرورت ہے اور انہیں بلا تاخیر مزید فنڈز فراہم کیے جائیں۔کانگریس لیڈر نے اس واقعہ کے لئے مقامی انتظامیہ کی لاپرواہی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ واقعہ کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئے اور مجرموں کو سخت سے سخت سزا دے کر لوگوں کو انصاف ملنا چاہئے ۔غور طلب ہے کہ 2 جولائی کو ہاتھرس میں ستسنگ کے دوران بھگدڑ مچ گئی تھی جس میں 120 سے زیادہ لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ واقعہ کے بعد راہول گاندھی نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی اور ان سے بات کی۔