راہول گاندھی کیخلاف ہتک عزت کا مقدمہ ہائیکورٹ سے خارج

,

   

نئی دہلی۔ 17 فروری (ایجنسیز) کرناٹک ہائی کورٹ نے کانگریس لیڈر راہول گاندھی کے خلاف بی جے پی کی جانب سے دائر فوجداری ہتک عزت کی عرضی کو خارج کرتے ہوئے انہیں بڑی قانونی راحت فراہم کی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس مقدمہ کو جاری رکھنا قانون کے عمل کا غلط استعمال ہوگا۔ یہ مقدمہ اسمبلی انتخابات کے دوران سابق بی جے پی حکومت کے خلاف شائع کیے گئے مبینہ ’بدعنوانی ریٹ کارڈ‘ اشتہار سے متعلق تھا۔ راہول گاندھی نے اپنے خلاف درج الزامات کو ختم کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ جسٹس سنیل دت یادو کی سربراہی والی بنچ نے حکم سناتے ہوئے کہا کہ راہول گاندھی کے خلاف کارروائی کالعدم قرار دی جاتی ہے۔ شکایت بی جے پی لیڈر کیشو پرساد نے درج کرائی تھی۔ شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ وزیر اعلیٰ سدارامیا، نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار اور راہول گاندھی نے سابق وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی کی قیادت والی بی جے پی حکومت کے خلاف جھوٹے اشتہارات شائع کیے۔ عرضی میں کہا گیا تھا کہ ملزمان نے میڈیا میں پورے صفحے کے اشتہارات جاری کیے جن میں بی جے پی حکومت پر 40 فیصد کمیشن لینے کا الزام لگایا گیا۔ الزام تھا کہ راہول گاندھی نے اس مواد کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بھی شیئر کیا۔ تاہم دفاعی فریق نے مؤقف اختیار کیا کہ راہول گاندھی کے خلاف کوئی ابتدائی ثبوت موجود نہیں اور نہ ہی کوئی دستاویزی شہادت پیش کی گئی۔ راہول گاندھی اس معاملے میں بنگلورو کی خصوصی ایم پی اور ایم ایل اے عدالت میں پیش بھی ہو چکے تھے۔ وزیر اعلیٰ سدارامیا اور نائب وزیر اعلیٰ شیوکمار نے بھی عدالت میں حاضری دے کر ضمانت حاصل کی تھی۔ شیوکمار نے اس مقدمہ کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سیاسی بنیادوں پر دائر کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ کانگریس نے ’40 فیصد کمیشن‘ کے الزام کو انتخابی مہم کا بڑا موضوع بنایا تھا۔ ابتدا میں یہ الزامات تقاریر میں لگائے گئے، بعد ازاں سوشل میڈیا مہم چلائی گئی اور ریاست بھر میں پوسٹر بھی لگائے گئے۔ عدالت کے حالیہ فیصلے کو کانگریس کے لیے ایک اہم قانونی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔