راہول گاندھی کی آج کوٹہ آمد، طلبہ کی آواز کو قومی تحریک میں بدلنے کی تیاری

,

   

نیٹ اور دیگر مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ سے راست گفتگوکا پروگرام
حضرت نظام الدین سے جن شتابدی ایکسپریس کے ذریعہ راجستھان جانے کا فیصلہ‘خصوصی پروٹوکول سے گریز

نئی دہلی۔16 ؍جون ( ایجنسیز )لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر لیڈر راہول گاندھی کل یعنی 17 جون کو حضرت نظام الدین سے جن شتابدی ایکسپریس کے ذریعے راجستھان کے شہر کوٹہ پہنچیں گے جہاں وہ نیٹ اور دیگر مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ سے براہ راست گفتگو کریں گے۔کانگریس اس دورے کو نوجوانوں کے مسائل، امتحانی بدعنوانیوں اور مسلسل سامنے آنے والے پرچہ افشا ہونے کے واقعات کے خلاف ایک اہم قومی مہم کا نقط آغاز قرار دے رہی ہے۔ پارٹی کے مطابق راہول گاندھی نے دانستہ طور پر روایتی سیاسی طرز عمل اور خصوصی پروٹوکول سے گریز کرتے ہوئے عام مسافروں کی طرح ریل کے ذریعے سفر کا انتخاب کیا ہے تاکہ نوجوانوں کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ ان کے مسائل ملک کی سیاست کے مرکز میں ہیں۔کانگریس کی جانب سے اس مہم کو ’طلبہ کی گونج‘ کا نام دیا گیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہوگی کہ یہاں روایتی سیاسی تقاریر نہیں ہوں گی بلکہ راہول گاندھی کئی گھنٹوں تک طلبہ کے درمیان موجود رہ کر ان کی مشکلات، خدشات، تجربات اور تجاویز سنیں گے۔ کانگریس کا مؤقف ہے کہ ملک بھر میں لاکھوں نوجوان امتحانی نظام پر اعتماد کے بحران کا شکار ہیں اور انہیں محسوس ہوتا ہے کہ سخت محنت کے باوجود ان کے مستقبل کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔پارٹی کا الزام ہے کہ گزشتہ برسوں میں متعدد قومی سطح کے امتحانات تنازعات، پرچہ افشا ہونے کے واقعات اور انتظامی بے ضابطگیوں کی زد میں رہے ہیں، جس کے باعث نوجوانوں میں بے چینی بڑھتی گئی۔ کانگریس کے مطابق قومی امتحانی ایجنسی نوجوانوں کے اعتماد کو بحال کرنے میں ناکام رہی ہے اور حکومت نے بھی امتحانی نظام میں بنیادی اصلاحات کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو روزگار، بھرتیوں اور امتحانات کے حوالے سے مسلسل غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے جس نے ایک پوری نسل کے خوابوں کو متاثر کیا ہے۔اس دورے سے قبل راہول گاندھی نے اپنے پیغام میں کہا کہ آج کے ہندوستان میں نوجوانوں کو محنت کا صلہ نہیں بلکہ خواب دیکھنے کی سزا مل رہی ہے۔ ان کے مطابق ہر افشا ہونے والا پرچہ، ہر منسوخ ہونے والا امتحان اور ہر رکی ہوئی بھرتی صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ کروڑوں نوجوانوں کی امیدوں پر حملہ ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ جب حکومت نوجوانوں کی آواز سننے میں ناکام ہو جائے تو جمہوری طریقے سے ان کی آواز کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہو جاتا ہے۔دوسری جانب سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض حلقے طلبہ کو اس پروگرام میں شرکت سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کوچنگ اداروں اور رہائشی سہولیات سے وابستہ افراد پر دباؤ ڈالے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ کانگریس نے ان دعوؤں کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کو اپنی بات کہنے اور جمہوری سرگرمیوں میں حصہ لینے کا مکمل حق حاصل ہے۔پارٹی کے مطابق کوٹہ سے شروع ہونے والی یہ مہم صرف ایک شہر تک محدود نہیں رہے گی بلکہ آنے والے ہفتوں میں ملک کے مختلف تعلیمی اور امتحانی مراکز تک پہنچے گی۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ اس مہم کے ذریعے نوجوانوں کے مسائل کو پارلیمنٹ اور قومی سطح پر زیادہ مؤثر انداز میں اٹھایا جائے گا۔ پارٹی نیٹ امتحان کے ڈھانچے میں اصلاحات، مسابقتی امتحانات کی فیس ختم کرنے، پرچہ افشا کرنے والے گروہوں کے خلاف سخت کارروائی اور تعلیمی نظام میں جوابدہی کے مطالبات کو عوامی سطح پر مزید مضبوط بنانے کی کوشش کرے گی۔