چنئی، 30 ستمبر (یو این آئی) کانگریس کے سینئر لیڈر اور پارٹی کے رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی نے ٹی وی کے کے بانی اور اداکار وجے کو فون کیا جن کی سیاسی ریلی میں بھگدڑ مچنے سے 41 افراد کی موت ہوگئی تھی، اور ان سے صورتحال دریافت کی۔ اطلاعات کے مطابق راہول گاندھی نے کل شام وجے سے بات کی۔ 15 منٹ تک جاری رہنے والی ٹیلی کال کے دوران راہول گاندھی نے سانحہ سے متعلق حالات کے بارے میں دریافت کیا اور سوگوار خاندانوں سے تعزیت بھی ظاہر کی۔ دریں اثناء، ٹی وی کے کے سینئر لیڈر آدھو ارجن پارٹی کی جانب سے تعزیت کرنے اور امداد فراہم کرنے کے لیے مہلوکین کے اہل خانہ سے ملنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس دورے کے دوران اپنی حفاظت کو یقینی بنانے ، وہ ہائی کورٹ میں ایک علیحدہ پٹیشن دائر کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
کانگریس وفد کی کرور بھگدڑ کے زخمیوں سے دواخانہ میں ملاقات
چنئی، 30 ستمبر (یو این آئی): کانگریس کے جنرل سکریٹری کے . سی. وینوگوپال کی قیادت میں ایک وفد نے منگل کو کرور کا دورہ کیا۔ وفد نے اُس حادثہ کے مقام کا معائنہ کیا جہاں گزشتہ ہفتہ کی رات (27 ستمبر) کو اداکار سے سیاستداں بنے تھلپتی وجے کی تملگا ویٹری کژگم (ٹی وی کے )کی سیاسی ریلی میں بھگدڑ مچنے کے بعد 41 افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ وینوگوپال کی قیادت میں اس ٹیم میں تمل ناڈو کانگریس کمیٹی (ٹی این سی سی) کے صدر کے سیلوپیرونتگئی اور کرور کی رکن پارلیمنٹ جوتیمنی بھی شامل تھیں۔ انہوں نے سب سے پہلے جائے حادثہ کا معائنہ کیا، جہاں اب بھی سیکڑوں جوتے ، خیمے اور ذاتی سامان بکھرا ہوا تھا اور پولیس نے علاقے کو بیریکیڈ کر رکھا تھا۔ گروپ نے پولیس اور سینئر ضلعی حکام کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی جس میں ریلی میں تاخیر، ہجوم کے جمع ہونے اور سیکورٹی میں کوتاہی جیسے معاملات پر معلومات لی گئیں۔ اس کے بعد وہ اسپتال گئے ، جہاں زخمیوں سے ملاقات کی، ان کی حالت کے بارے میں دریافت کیا اور ڈاکٹروں سے علاج کے عمل پر بات چیت کی۔
لداخ میں ہلاکتوں کی غیر جانبدارانہ عدالتی جانچ ہونی چاہئے : راہول گاندھی
نئی دہلی، 30 ستمبر (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے لداخ میں احتجاج کے دوران ہونے والے تشدد کی عدالتی تحقیقات اور قصورواروں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ راہول گاندھی نے منگل کے روز سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی پر لداخ کے لوگوں کو دھوکہ دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اپنے حقوق مانگنے والوں کو تشدد سے ڈرانے کے بجائے ان کے ساتھ بات چیت کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے ۔ انہوں نے لداخ کے سابق فوجی کے مصائب کی ویڈیو بھی جاری کی، جس نے ملک کے مختلف حصوں میں خدمات انجام دیں اور جس کا بیٹا لداخ میں ہونے والی فائرنگ میں مارا گیا تھا۔ کانگریس لیڈر نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ باپ ایک سپاہی، بیٹا بھی ایک سپاہی – حب الوطنی ان کے خون میں پیوست ہے ، پھر بھی، بی جے پی حکومت نے ملک کے ایک بہادر بیٹے کو گولی مار کر مار ڈالا، صرف اس لیے کہ وہ لداخ سے تھا۔
