راہول گاندھی کی ایماء پر تلنگانہ کے سینئر قائدین سے مشاورت

   


جنرل سکریٹری وینو گوپال کا قائدین کو فون، پی سی سی صدر کا جلد اعلان

حیدرآباد۔ تلنگانہ صدر پردیش کانگریس کے انتخاب کے سلسلہ میں کانگریس ہائی کمان نے اپنی سرگرمیوں کو تیز کردیا ہے۔ راہول گاندھی نے پارٹی کے انچارج جنرل سکریٹری اور سکریٹریز کی رپورٹ کے بعد انتظامی اُمور کے جنرل سکریٹری وینو گوپال کو ریاست کے اہم قائدین سے مشاورت کی ہدایت دی تاکہ صدر کے نام پر اتفاق رائے پیدا کیا جاسکے۔ اطلاعات کے مطابق کے سی وینو گوپال نے نئی دہلی سے فون پر آج دن بھر تلنگانہ کے بعض اہم قائدین سے ربط قائم کرتے ہوئے صدارت کیلئے موزوں اور اہل قائد کے بارے میں رائے حاصل کی۔ انہوں نے سابق سی ایل پی لیڈرس کے جانا ریڈی، محمد علی شبیر کے علاوہ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا، سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودر راج نرسمہا اور بعض دیگر قائدین سے تفصیلی بات چیت کی۔ انہوں نے قائدین پر واضح کردیا کہ تلنگانہ میں پارٹی کا استحکام ہائی کمان کی اولین ترجیح ہے اور ایسے قائد کا انتخاب کیا جائے گا جو نہ صرف عوامی مقبولیت رکھتا ہو بلکہ ٹی آر ایس سے مقابلہ کرتے ہوئے 2023 میں پارٹی کو برسراقتدار لانے کا عزم کا حامل ہو۔ بتایا جاتا ہے کہ قائدین نے ہائی کمان کے فیصلہ کو قبول کرنے کا بھروسہ دلایا تاہم بعض قائدین نے ناگرجنا ساگر کے ضمنی چناؤ تک اس مسئلہ کو ملتوی رکھنے کی سفارش کی۔ بتایا جاتا ہے کہ ہائی کمان نئے صدر کے اعلان کے سلسلہ میں مزید تاخیر کیلئے تیار نہیں ہے اور اندرون دو یوم نئے صدر کے نام کا اعلان کردیا جائے گا۔ ہائی کمان کی جانب سے ناراض قائدین کو منانے کی کوشش کی جارہی ہے اور بیشتر قائدین نے اپنی دعویداری ترک کرتے ہوئے ہائی کمان پر فیصلہ چھوڑ دیا ہے۔ اسی دوران سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ پارٹی میں الگ تھلگ پڑ گئے ہیں۔ ریونت ریڈی کی مخالفت میں وہ اس قدر آگے نکل گئے کہ انہوں نے انچارج جنرل سکریٹری، سکریٹریز اور تنظیمی اُمور کے جنرل سکریٹری وینو گوپال پر سخت تنقید کی۔ ہائی کمان انہیں وجہ نمائی نوٹس دے سکتا ہے اور ممکن ہے کہ ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے۔