مفاد پرست اور فاشسٹ طاقتیں دو ہندوستان بنانا چاہتی ہیں۔ ہندوستان سب کا ہوگا ۔ کانگریس لیڈر کا عوام کے کثیر اجتماع سے خطاب
حیدرآباد۔23۔اکٹوبر(سیاست نیوز) ملک میں فسطائیت ب نفرت کے خلاف شروع کی گئی ’بھارت جوڑویاترا‘ 45 دن کا سفر طئے کرنے کے بعد آج تلنگانہ میں داخل ہوئی اور تلنگانہ و کرناٹک کی سرحد پر عوام کی بڑی تعداد نے کانگریس قائد راہول گاندھی کا پرجوش و پرتپاک خیر مقدم کیا ۔راہول گاندھی کی ’بھارت جوڑو یاترا‘ جو کہ ریاست میں داخل ہونے کے فوری بعد تین دن کیلئے روکی جانے والی تھی وہ عوام کے جوش و خروش کو دیکھتے ہوئے زائد از 4کیلو میٹر جاری رہی۔راہول گاندھی نے واضح کیا کہ اس یاترا کے کوئی سیاسی مقاصد نہیں ہیں بلکہ وہ ملک میں آر ایس ایس اور محاذی تنظیموں کے خلاف ملک کے عوام کو جوڑنے کیلئے یہ یاترا نکال رہے ہیں اور اس یاترا کو عوامی طاقت حاصل ہے۔ راہول گاندھی نے عوام سے خطاب میںکہا کہ ان کی یاترا کوکوئی طاقت نہیں روک سکتی کیونکہ یہ ہندستانیوں کے دل کی آواز ہے اور ہندستانی عوام کو متحد کرنے اس یاترا کا مقصد عوام کے درمیان محبت پیدا کرنا ہے۔ یاترا کے خیر مقدم کیلئے آئے کسانوں‘ نوجوانوں اور طالبات سے راہول گاندھی نے وعدہ کیا کہ وہ واپسی کے بعد ان سے شخصی ملاقات کرکے ان کے مسائل کی سماعت کریں گے ۔مکتھل پہنچ کربے روزگاری و کسانوں کے مسائل پر گفتگو کرنے والوں میں نوجوانوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔ کرناٹک رائچور میں موضع دیواسگور سے یاترا کرشنا ندی پر موجود برج کے ذریعہ یاترا تلنگانہ میں داخل ہوئی جہاں ’بھارت جوڑو ‘ کے فلک شگاف نعرے لگاتے ہوئے تلنگانہ پردیش کانگریس قائدین اور تلنگانہ عوام نے راہول گاندھی کا خیر مقدم کیا۔ راہول گاندھی کی یاتراکے تلنگانہ میں داخلہ پر کرشنا ندی پوری آب و تاب کے ساتھ بہہ رہی تھی اور برج پر ہزاروں کی تعداد میں عوام نے راہول گاندھی کا خیر مقدم کیا ۔1933 میں نظام دور حکومت میں کرشنا ندی پر تعمیر کئے گئے اس برج پر ایک موقع پر بھگدڑ مچنے کا خدشہ تھا کیونکہ نوجوانوں کی بڑی تعداد راہول گاندھی کی ایک جھلک دیکھنے امڈ پڑی تھی۔ تلنگانہ پردیش قائدین میں مسٹر اے ریونت ریڈی صدر ‘ جناب محمد علی شبیر‘ کیپٹن اتم کمار ریڈی ‘ مسٹر ملوبٹی وکرمارک‘ مسٹر مدھو گوڑ یشکی ‘ مسٹر مانکیم ٹیگور‘ مسٹر مہیش کمار گوڑ‘ مسز گیتا ریڈی ‘ مسزسیتا اکا‘ مسٹر پونالہ لکشمیا‘ مسٹر وی ہنمنت راؤ‘مسٹر سمپت کمار کے علاوہ دیگر نے تلنگانہ میں ’بھارت جوڑو یاترا‘ کا خیر مقدم کیا ۔ فراہول گاندھی کی آمد سے قبل کرشنا برج پر قبائیلی رقص اور سامع نوازی کا سلسلہ جاری رہا۔راہول گاندھی کی آمد پر تلنگانہ قائدین ‘ عوام کے علاوہ عوامی تنظیموں کے سرکردہ رضاکاروں نے بھی بھارت جوڑو یاترا کا خیر مقدم کیا ۔7ستمبر کو کنیا کماری سے شروع ہوئی یہ یاترا 16اضلاع ‘ 4 ریاستوں سے گذرکر تلنگانہ میں داخل ہوئی ہے۔ تلنگانہ میں یاترا کا خیر مقدم کرنے والے صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی اپنے کندھے پر بلند و بالا کانگریس پرچم اٹھائے تھے اور جذبات سے مغلوب ہوکر کانگریس قائد راہول گاندھی کا خیر مقدم کیا۔ یاترا آئندہ 16 یوم تک مختلف اضلاع میں 376 کیلو میٹر کی مسافت طئے کرنے کے بعد مہاراشٹرا میں داخل ہوجائیگی۔ مکتھل میں یاترا کا خیر مقدم کرنے والوںمیں مقامی عوام کی بڑی تعداد موجود تھی جو کہ ملک کی سالمیت اور نفرت کے خاتمہ کیلئے تاریخی یاترا کا حصہ بننے پہنچے تھے۔ یاتراکے ساتھ کرناٹک کے عوام بھی تلنگانہ میں داخل ہوئے جن کا تلنگانہ عوام نے خیر مقدم کیا اور کہا کہ دونوں ریاستوں کے درمیان سرحد ہے لیکن وہ ایک ہیں اور ہندستان کی خصوصیت ہی یہ ہے کہ ہندستان کی تہذیب کثرت میں وحدت کا درس دیتی ہے۔ راہول کی آمد پر ایک کیلو میٹر طویل برج پر عوام کی کثیر تعداد جمع تھی اور سکیوریٹی عملہ کو مشکلات کا سامنا تھا کیونکہ عوام کے جوش و خروش کے آگے نگران عملہ خود کو بے بس تصور کررہا تھا۔ راہول گاندھی نے سرحدی موضع گوڈیبلور میں قدم رکھا جس کے ساتھ ہی یاترا میں شامل افراد نے ملک سے نفرت کے خاتمہ کی مہم کو مزید تیز کرنے کا اعلان کیا۔ راہول نے کہا کہ یاترا کا کوئی سیاسی مقصد نہیں بلکہ ملک کے عوام کو متحد کرنے ‘ آر ایس ایس کی نفرت کو دور کرنے جاری ہے۔راہول گاندھی نے کہا کہ فاشسٹ طاقتیں ملک کو امیر و غریب میں بانٹنا چاہتی ہیں جبکہ کانگریس ایسا ہونے نہیں دیگا ۔ ملک سب کا ہے اور رہے گا ۔ راہول کے ہمراہ رکن راجیہ سبھا عمران پرتاپ گڑھی ‘ جناب ندیم جاوید ‘ جناب شیخ عبداللہ سہیل اور دیگر موجود تھے۔ یاترا کے ساتھیوں میں قومی سطح کی غیر سیاسی تنظیموں کے ذمہ دار بھی موجود تھے۔م