نظام آباد میں ٹی جیون ریڈی اور دیگر کانگریس قائدین کی پریس کانفرنس
نظام آباد :یکم ؍ اپریل ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) قانون ساز کونسل کانگریس پارٹی مسٹر جیون ریڈی نے کانگریس بھون نظام آباد میں نائب صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی طاہر بن حمدان ، صدر ضلع کانگریس موہن ریڈی ،پی سی س سکریٹری گڑگوگنگادھر ، ناگیش ریڈی و دیگر کانگریسی قائدین کے ہمراہ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے مرکزی بی جے پی حکومت کی جانب سے راہول گاندھی کو رکنیت کو برخواست کرنے کے خلاف سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ راہول گاندھی کی بھارت جوڑو پدیاترا سے جو تائید حاصل ہوئی تھی ۔ نریندر مودی کی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی تھی جس کی وجہ سے راہول گاندھی کیخلاف منصوبہ بند سازش کے تحت ان کی رکنیت کو برخواست کیا گیا ۔ مسٹر جیون ریڈی نے کہا کہ مودی اقتدار میں آنے سے پہلے اڈانی 50 ہزار کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کی تھی جب مودی اقتدار میں آنے کے بعد ان کے اثاثہ جات 10لاکھ کروڑ روپئے کے ہوگئے ہیں یہ صرف اور صرف مودی کی وجہ سے ہوا ہے ۔ خانگی اداروں کو فروغ دیتے ہوئے سرکاری اداروں کو ناکام بنانے میں حکومت نے اڈا نی کا ساتھ دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اڈانی کی سیل کمپنی میں 23 ہزار کروڑ کی سرمایہ کاری کس نے کی ہے اور اس بارے میں واضح کرنے کیلئے پارلیمنٹ میں آواز اٹھاتے ہوئے جوائنٹ پارلیمنٹ کمیٹی کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔ مودی کی حکومت کی پول کو کھولتا ہوا دیکھ کر راہول گاندھی کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ مسٹر جیون ریڈی نے کہا کہ کانگریس کے دور میں 72 ہزار کروڑ روپئے کسانوں کے قرضہ جات معاف کئے گئے تھے اور کسانوں کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے گئے تھے ۔ جبکہ مودی حکومت میں کسانوں کے ساتھ نا انصافی کرنے کے علاوہ سیاہ قانون نافذ کرتے ہوئے ان کیخلاف کارروائی کرنے کی بھی کوشش کی گئی ۔ جبکہ سرمایہ کاروں کے 12 لاکھ کروڑ روپئے معاف کئے گئے مسٹر جیون ریڈی نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر پٹرول اور ڈیزل کے دام کم ہونے کے باوجود بھی ملک میں بڑے پیمانے پر قیمتوں میں اضافہ کیا گیا اور یہ سراسر غلط ہے ۔راہول گاندھی کو ملک گیر سطح پر عوام کی تائید حاصل ہورہی ہے جس کے باعث مودی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر ان کیخلاف منصوبہ بند سازش کے تحت یہ اقدام کیا ہے ۔