راہول گاندھی کی یاترا الور سے شروع ہوئی

   

الور: کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا دوسرے دن منگل کو صبح 6.30 بجے کٹی ویلی سے شروع ہوئی۔ اس دوران سڑک کے دونوں اطراف لوگوں کا ایک بڑا ہجوم جمع ہوگیا اور لوگ ان سے ملنے کیلئے سڑکوں کے کنارے کھڑے ہوکران کا انتظار کرتے نظر آئے ۔ اس کے بعد راہول کی بھارت جوڑو یاترا بھوانی توپ چوک سے چل کر موتی ڈونگری میں کابینہ وزیر ٹیکارام جولی کے دفتر پہنچی جہاں جولی اور ان کے خاندان سمیت کانگریس کے تمام کارکنوں اور عہدیداروں نے راہول کا استقبال کیا۔بعدازاں یاترا موتی ڈونگری پہنچی جہاں راہول نے مارشل آرٹ کے بچوں کو اسٹیج سے نیچے بلایا اور ان سے ملاقات کی۔ مارشل آرٹ کے بچوں نے راہول کو اپنے کرتب دکھائے جس سے وہ بچوں کے کرتب دیکھ کر بہت خوش ہوئے ۔ اس کے بعد سابق مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے انہیں الور کا قلاقندکھلایا۔ موتی ڈونگری سے یاتراشروع ہوئی اور ایس ایم ڈی سرکل ہوتے ہوئے ننگلی سرکل پاور اسٹیشن سرکل، بھگت سنگھ کے راستے نمن ہوٹل سے ہنومان چوک پر پہنچی جہاں پر پیدل یاترا کا اختتام ہوا۔ اس کے بعد کار میں بیٹھ کر راہول گاندھی لوہیا کے تبارا کے قریب مودی گڑھ پہنچے جہاں انہوں نے ناشتہ کیا۔ جیسے ہی راہول گاندھی شہر سے نکلے لوگ اپنے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کران کی تصاویر اور ویڈیو لینے لگے ، وہیں جس جگہ سے یاترا نکل رہی تھی اس جگہ موجود گھروں کی چھتوں پر سیکورٹی کے پیش نظر پولیس اہلکار تعینات کئے گئے ۔ شہر میں بھارت جوڑو یاترا کا نظارہ قابل دید تھا، لوگ ہزاروں کی تعداد میں موجود تھے ۔ یاترا کے دوران وزیراعلیٰ اشوک گہلوت، کابینہ وزیر ٹیکارام جولی اور سابق مرکزی وزیر جتیندر سنگھ سمیت کئی قائدین ان کے ساتھ چلتے ہوئے نظر آئے ۔ یاترا کے دوران شہر کے مختلف مقامات پر ان کا استقبال کیا گیا اور مختلف چوراہوں پر بچوں کی طرف سے ثقافتی پروگرام پیش کئے گئے ۔ جیسے ہی یاترا شہر سے نکلی، ہر طرف سڑکیں جام ہوگئیں۔ جس کے بعد ٹریفک پولیس اہلکاروں نے جام کھول کر ٹریفک کا نظام ٹھیک کیا۔ مودی گڑھ میں ناشتہ کرنے کے بعد راہول گاندھی کی یاترا رام گڑھ پہنچے گی اور رام گڑھ سے نوگاوا تک راہول گاندھی پیدل سفر کریں گے ، اس کے بعد رات کا آرام نوگاوا کے زرعی کالج میں ہوگا، جس کے بعد راہول گاندھی کی یاترا چہارشنبہ کی صبح ہریانہ کی سرحد میں داخل ہوگی۔