راہول گاندھی کے خلاف ریمارکس پر کانگریس کارکنوں کا حیدرآباد میں مخالف کے ٹی آر احتجاج

   

احتجاجیوں کی گرفتاری، کسانوں سے وعدوں کی تکمیل میں کے سی آر حکومت ناکام
حیدرآباد: 18 جولائی (سیاست نیوز) کانگریس قائد راہول گاندھی کے خلاف وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ٹی راما رائو کے ریمارکس پر کانگریس قائدین نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ حیدرآباد میں کانگریس کارکنوں نے علیحدہ احتجاج منظم کرتے ہوئے کے ٹی آر کے علامتی پتلے نذرآتش کئے۔ صدر حیدرآباد ضلع کانگریس کمیٹی سمیر ولی اللہ اور صدر مہیلا کانگریس سنیتا رائو کی قیادت میں آج احتجاج منظم کیا گیا۔ پولیس نے کانگریس قائدین اور کارکنوں کو حراست میں لے کر بیگم بازار پولیس اسٹیشن منتقل کردیا۔ کانگریس کاکنوں نے کے سی آر اور کے ٹی آر کے خلاف نعرے بازی کی اور دونوں قائدین کے علامتی پتلے نذر آتش کئے۔ پولیس اور کانگریس کارکنوں کے درمیان بحث و تکرار ہوئی اور پولیس نے احتجاجیوں کو سڑک پر پتلے نذرآتش کرنے سے روک دیا۔ اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سمیر ولی اللہ اور سنیتا رائو نے کہا کہ کے ٹی آر نے زراعت کے بارے میں راہول گاندھی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ قائدین نے کہا کہ ملک میں زرعی شعبہ کی ترقی کانگریس کی دین ہے اور پنڈت جواہر لال نہرو سے لے کر ڈاکٹر منموہن سنگھ تک کانگریس حکومتوں میں زراعت کی ترقی میں اہم رول ادا کیا۔ کانگریس قائدین نے کہا کہ تلنگانہ میں حکومت کی پالیسی کے نتیجہ میں کسان پریشان حال ہیں۔ کے سی آر نے قرض معافی کا وعدہ پورا نہیں کیا اس کے علاوہ رئیتو بندھو اسکیم کی رقومات تمام کسانوں کو جاری نہیں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ کے ٹی آر کو راہول گاندھی پر تنقید سے قبل اپنی حکومت کے کارناموں کو بیان کرنا چاہئے۔ راہول گاندھی نے 6 مئی کو ورنگل میں رئیتو ڈکلیریشن جاری کیا جس کے تحت 2 لاکھ روپئے تک قرض کی معافی اور کسانوں کو فی ایکر 15 ہزار روپئے امداد کا وعدہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی پر تنقید سے قبل کے ٹی آر کو اپنا محاسبہ کرنا چاہئے۔ صدر خیریت آباد ضلع کانگریس کمیٹی روہن ریڈی کی قیادت میں احتجاج منظم کیا گیا جس میں کے ٹی آر کا علامتی پتلہ نذر آتش کیا۔ر