اپوزیشن اجلاس میں ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ کی غیر حاضری، بی جے پی سے ملی بھگت ، ریونت ریڈی کا الزام
حیدرآباد۔ /3 اگسٹ، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے پارٹی کے دیگر ایم پیز اتم کمار ریڈی اور کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی کے ہمراہ نئی دہلی میں کانگریس لیڈر راہول گاندھی کی قیادت میں مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج میں حصہ لیا۔ تلنگانہ کے تینوں ارکان پارلیمنٹ نے جاسوسی معاملہ میں اپوزیشن کے مشترکہ احتجاج کی تائید کی اور کہا کہ مرکز کے خلاف متحدہ اپوزیشن میں ٹی آر ایس غیر حاضر ہے۔ راہول کی قیادت میں ارکان پارلیمنٹ سائیکلوں کے ذریعہ احتجاج میں شامل ہوئے ۔ بعد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کانگریس کی جانب سے طلب کردہ اپوزیشن کے اجلاس میں ٹی آر ایس کی غیر حاضری کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اجلاس سے ٹی آر ایس کی غیر حاضری اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹی آر ایس اور بی جے پی دونوں ایک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی عوامی مسئلہ پر ٹی آر ایس کے ارکان نے پارلیمنٹ کے ایوانوں میں احتجاج نہیں کیا ہے۔ ملک میں پٹرولیم اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی کے سبب عوام کی مشکلات سے ہر کوئی واقف ہے لیکن ٹی آر ایس نے نریندر مودی حکومت سے خفیہ ساز باز کرلی ہے۔ ریونت ریڈی نے بتایا کہ راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن نے مودی حکومت کے خلاف جدوجہد تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبی تنازعہ کی یکسوئی کیلئے مرکزی حکومت کی جانب سے قائم کردہ کرشنا ۔ گوداوری مینجمنٹ بورڈز کے اجلاس سے تلنگانہ غیر حاضر رہا۔ پانی کی تقسیم کے مسئلہ پر آندھرا پردیش کے رویہ سے تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے سابق میں دہلی میں تلنگانہ کے مسائل کیلئے جنگ کا اعلان کیا تھا لیکن پارلیمنٹ میں ٹی آر ایس ارکان نے ایک دن بھی حکومت کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔ انہوں نے بی جے پی اور ٹی آر ایس میں ساز باز کا الزام عائد کیا اور کہا کہ قومی سطح پر حکومت کے خلاف ٹی آر ایس خاموش ہے تو دوسری طرف تلنگانہ میں بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے نے حکومت کے خلاف پدیاترا ملتوی کردی ہے۔ ریونت ریڈی نے انکشاف کیا کہ پارلیمنٹ اجلاس کے دوران ٹی آر ایس کے رکن راجیہ سبھا سنتوش کمار کے ساتھ 5 ارکان راجیہ سبھا نے وزیر اعظم سے ملاقات کی۔ کچھ وقفہ کے بعد سنتوش کمار کی وزیر اعظم سے تنہائی میں ملاقات ہوئی۔ انہوں نے اس ملاقات کی تفصیلات عوام میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ آیا چیف منسٹر کی منظوری کے بغیر یہ ملاقات ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ 15 دنوں میں ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ نے ایک بھی مسئلہ پر بات چیت نہیں کی۔ کانگریس نے 9 اگسٹ سے کے سی آر حکومت کی مخالف دلت پالیسیوں کے خلاف جدوجہد کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنڈی سنجے کی پدیاترا کے التواء کیلئے مرکزی وزیر کشن ریڈی ذمہ دار ہیں جنہوں نے وزیر اعظم سے بات چیت کرتے ہوئے پدیاترا کو ملتوی کرایا ہے۔ انہوں نے کوشک ریڈی کو کونسل کی رکنیت دینے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے جاسوس کو یہ عہدہ دیا گیا ہے جو کئی دن سے پارٹی کے خلاف کام کررہے تھے۔