راہگیروں کو ہراساں کرنے کا پولیس پر الزام

   

حیدرآباد۔/24 اگسٹ، ( سیاست نیوز) شہر میں جاری احتجاج سے پولیس کی پریشانیوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ بغیر سیاسی سرپرستی اور اچانک مختلف مقامات پر ہورہے احتجاج نے پولیس کو الجھن کا شکار بنادیا ہے۔ کل کے احتجاج کے بعد آج برہم نوجوانوں نے احتجاج میں شدت پیدا کرتے ہوئے احتجاج کے طریقہ کو بھی بدل دیا ہے۔ پُرامن و جمہوری احتجاج کے دوران آج شہر کے مختلف علاقوں اور چوراہوں پر پتلے نذر آتش کئے گئے۔ پولیس کے حلقوں میں یہ بات گشت کررہی ہے کہ احتجاج صرف نوجوانوں کی جانب سے ہورہا ہے اور یہ کوئی منظم احتجاج نہیں بلکہ برہم نوجوان کسی بھی مقام پر گروپ کی شکل میں نمودار ہورہے ہیں اور احتجاج کررہے ہیں بلکہ سڑکوں پر ابھی تک نہ مذہبی قائدین کو ان کے ساتھ دیکھا گیا اور نہ ہی سیاسی قائدین ان کے ہمراہ پائے جاتے ہیں بلکہ راہ چلتے افراد بالخصوص نوجوان طبقہ احتجاج کا حصہ بن رہا ہے۔ مسلم نوجوانوں کی برہمی اور احتجاج اور شہریوں میں بڑھتے ہوئے غم و غصہ کو دیکھتے ہوئے پولیس نے شام ہوتے ہی بازار کو بند کروادیا۔ باوجود اس کے پولیس پر جمہوری حق کی تلافی کے الزامات پائے جاتے ہیں۔ پرانے شہر کے علاقے میں پولیس کی جانب سے راہگیروں کو ہراساں کیاجانے لگا ہے اور سڑکوں پر دکھائی دینے والے کسی ضروری کام سے باہر نکلنے والے یا پھر ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ کو پہنچنے والے افراد کو جبراً حراست میں لیا جارہا ہے۔ آج رات مختلف علاقوں سے ایسی متعدد شکایتیں وصول ہوئیں جو سٹی پولیس کی ساکھ کو متاثر کرنے اور پولیس پر جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کے الزامات کا سبب بن رہی ہیں۔ امن کو برقرار رکھتے ہوئے پرامن و جمہوری انداز میں جاری احتجاج کو طاقت کے زور پر دبانے کی کوششیں خود پولیس کی پالیسی کے خلاف مضر اثرات کا سبب بن سکتی ہیں۔ محکمہ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کوچاہیئے کہ وہ امن کی برقراری کیلئے جاری ان کی رات دن کی کوششوں کو ناکام بنانے والے ماتحت عہدیداروں پر لگام لگائیں اور حالات کے بے قابو ہونے کا سبب بننے والے ملازمین کو پابند کرتے ہوئے موثر اقدامات کو اہمیت دیں۔ع