رب کے آگے جھکنا ‘ سکون کی متلاشی دنیا کیلئے واحد راستہ

   

تیز رفتار عوامی زندگی پر کورونا کا بریک ‘ آپسی دوریاں مزید بڑھ گئیں ۔ تجارتی سرگرمیاں ٹھپ

نرمل ۔ کورونا کی وبا نے کئی نوجوانوں کو بیروزگار بنا دیا تو دوسرے طرف تجارتی سرگرمیاں مکمل ٹھپ ہو کر رہ گئی ۔ ماہ مارچ سے لوگ تجارت میں تیزی کے لئے بے چین ہیں ملگیات کا کرایہ ادا کرنے سے قاصر ہیں ۔ آج اگر کوئی تجارت باقاعدہ چل رہی ہے تو وہ کرانہ دکانیں میڈیکل شاپس دودھ دہی کی دکانیں باقی تجارت برائے نام ہو کر رہ گئی ہے ۔ دوست احباب رشتہ دار بھی ایک دوسرے سے ملاقات کرنے کے لئے احتیاط برتتے ہوئے دیکھے جا رہے ہیں۔ پرائیویٹ اسکولس کا حال تو انتہائی قابل رحم ہوگیا ۔ انتظامیہ پرائیویٹ ٹیچرز کی تنخواہیں ادا نہیں کرسکتا بلڈنگس کے مالکین کو کرایہ دینے کے موقف میں نہیں ہے ۔ پرائیویٹ ٹیچرز خواتین کی بہت بڑی تعداد ہے بلکہ کئی ٹیچرز کی زندگی کا دارو مدار اپنی خانگی ملازمت پر ہی منحصر ہے ۔ ایسے ماحول میں بیماری کے خوف معمولی بخار بھی آجائے تو دواخانوں کا رخ کرنے کے لئے بھی بار بار غور کرنا پڑتا ہے ۔ آگے کیا ہوں گے اس بات کو لیکر متوسط طبقہ کافی پریشان ہے ۔ حیدرآباد میں مقیم اضلاع کے کئی لوگ جو وظیفہ پر سبکدوش ہونے کے بعد شہر کو چلے گئے تھے رفتہ رفتہ اپنے اپنے وطن عزیز کو ہی لوٹتے ہوئے دیکھے گئے ۔ یہ حقیقت ہے کہ جو ذات رات کو درختوں پر بیٹھے پرندوں کو نیند میں گرنے نہیں دیتی وہ ذات انسان کو کیسے بے یا ر و مددگار چھوڑ سکتی ہے ۔ ہمیں اب اس کی ہی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے رب سے ہی گڑ گڑا کر مانگنا ہے جس وباء سے آج ساری دنیا کا سکون درہم برہم ہے وہ سکون کی بحالی اپنے رب کے آگے جھکنے سے مل سکتی ہے یہاں یہ بتانا بے محل نہ ہوگا کہ مارکٹ میں آج ڈرائی فروٹ کی مانگ میں اس قدر اضافہ ہوا ہے کہ عیدین کے موقع پر جیسا بادام کھجور جو فروخت ہوتے تھے آج ہر کرانہ دوکان پر گاہکوں کو یہ چیزیں خرید تے دیکھا جا رہا ہے ۔