رجسٹریشن فیس کی ترمیمات ، ایک ماہ کے دوران ایک ہزار کروڑ کی آمدنی

   

غیر زرعی اراضیات کی رجسٹریشن سے 812 کروڑ ، زرعی اراضیات کے رجسٹریشن سے 200 کروڑ کی آمدنی
حیدرآباد ۔ 26 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : ریاست میں اراضیات کی مارکٹ قدر میں ترمیمات کے بعد بھی رجسٹریشن کا عمل تیزی سے جاری ہے ۔ نئی فیس پر گذشتہ ماہ 22 جولائی سے ریاست تلنگانہ میں عمل آوری شروع ہوئی ہے ۔ جاریہ ماہ 22 اگست تک ریاست میں زرعی و غیر زرعی اراضیات کا بڑے پیمانے پر رجسٹریشن ہوا ہے ۔ ایک ماہ کے دوران غیر زرعی اراضیات کے رجسٹریشن سے حکومت کو 812 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے ۔ سب سے زیادہ گنڈی پیٹ سب رجسٹرار کے حدود میں 112 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے ۔ ضلع رنگاریڈی کے ایس آر او میں 78 کروڑ سنگاریڈی میں 58 کروڑ قطب اللہ پور میں 45 کروڑ بنجارہ ہلز میں 41 کروڑ روپئے وصول ہوئے ہیں ۔ دھرانی پورٹل کے ذریعہ زرعی اراضیات سے متعلق ایک ماہ کے دوران 87,632 لین دین ہوئی ہے ۔ جس کے ذریعہ 200 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے ۔ 22 جولائی تا 22 اگست تک 1,07,900 زرعی اراضیات کا رجسٹریشن ہوا ہے ۔ سب سے زیادہ سنگاریڈی سب رجسٹرار کے حدود میں 4,329 دستیاویزات کا رجسٹریشن ہوا ہے ۔ 3 ہزار رجسٹریشن کے ساتھ قطب اللہ پور دوسرے اور 2,800 رجسٹریشن کے ساتھ ورنگل تیسرے مقام پر رہا ہے ۔ 22 جولائی سے 22 اگست تک رجسٹریشن کے عمل میں تھوڑی کمی آئی ہے ۔ رجسٹریشن کے چارجس میں تریمات کے اندیشہ کے تحت عوام نے پہلے ہی لین دین کے عمل کو مکمل کرلیا ہے ۔ جس سے ماہ جون کے اواخر سے رجسٹریشن کی تعداد میں اضافہ کے عمل کا آغاز ہوا تھا ۔ جس سے فیس میں ترمیمات کے بعد رجسٹریشن کی تعداد میں کمی آئی ہے ۔ عہدیداروں نے اس کمی کو معمولی قرار دیا ہے ۔ دوسری طرف فیس میں ترمیمات سے سرکاری خزانے کے آمدنی میں اضافہ ہوا ہے ۔۔N