حیدرآباد میں تقریباً 7 لاکھ نوٹریز، غیر زرعی جائیدادوں کے سلسلہ میں حکومت کا عنقریب فیصلہ
حیدرآباد۔ تلنگانہ میں جائیدادوں کے رجسٹریشن پر 2 ماہ قبل عائد کردہ پابندی کے بعد سے اراضیات اور جائیدادوں کی فروخت کے سلسلہ میں نوٹری معاملات میں اضافہ ہوا ہے۔ نوٹری کے ذریعہ اراضیات و جائیداد کی فروخت کا عمل مکمل کیا جارہا ہے اور رجسٹریشن کی بحالی کے بعد اراضیات اور جائیدادوں کی رجسٹری کرالی جائے گی۔ کورونا لاک ڈاؤن کے دوران رئیل اسٹیٹ کاروبار بری طرح متاثر ہوا تھا تاہم اَن لاک سرگرمیوں کے آغاز کے بعد رئیل اسٹیٹ اور اس سے متعلق دیگر سرگرمیاں بتدریج بحال ہورہی ہیں۔ شہری اور دیہی علاقوں میں اراضیات و جائیدادوں کی فروخت کے سلسلہ میں زیادہ تر ایسے افراد دیکھے گئے جو کورونا کے نقصانات کی پابجائی کیلئے اراضیات کی فروخت پر مجبور ہیں۔ حکومت کی جانب سے اگرچہ زرعی اراضیات کے رجسٹریشن کا 2 نومبر سے آغاز ہوگیا تاہم غیر زرعی اراضیات و جائیدادوں کے بارے میں حکومت کا فیصلہ ابھی باقی ہے۔ نوٹری دستاویزات کے ذریعہ جائیدادوں کی خرید و فروخت کے نتیجہ میں گریٹر حیدرآباد میں اسٹامپ پیپرس کی قلت پیدا ہوچکی ہے۔ مارکٹ کے علاوہ عدالتوں میں بھی اسٹامپ پیپرس کی کمی دیکھی گئی۔ بعض تاجرین کی جانب سے 100 روپئے کا اسٹامپ پیپر 200 یا 300 روپئے میں فروخت کیا جارہا ہے۔ نوٹری دستاویزات اور نوٹری معاہدہ کا مطلب خرید و فروخت کو طئے کرتے ہوئے معاہدہ کرنا ہے جس کی توثیق کسی نوٹری ایڈوکیٹ کے ذریعہ حاصل کی جاتی ہے۔ اگرچہ اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے تاہم رجسٹریشن سے قبل معاہدہ کے ثبوت کے طور پر اسے بنایا جارہا ہے۔ عام طور پر ایسے لوگ جو رجسٹریشن کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے وہ نوٹری کے ذریعہ خرید و فروخت کا معاہدہ کرتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بنجارہ ہلز، جوبلی ہلز، شیخ پیٹ، مادھا پور علاقوں میں اسٹامپ پیپر کی کمی دیکھی گئی۔ حکومت نے غیر مجاز لے آؤٹس کو باقاعدہ بنانے کی اسکیم کا اعلان کیا تھا جس کی مدت ختم ہوچکی ہے۔ اسی دوران عہدیداروں نے بتایا کہ کسی بھی معاملت کو قانونی شکل دینے کیلئے سب رجسٹرار دفاتر پہنچ کر رجسٹری کروانا لازمی ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ حکومت کی طرف سے غیر زرعی جائیدادوں کے رجسٹریشن کے آغاز کے بعد سب رجسٹرار دفاتر میں ہجوم میں اضافہ ہوجائے گا۔ ایک اندازہ کے مطابق حیدرآباد میں گذشتہ کئی دہوں کے دوران 6 تا 7 لاکھ نوٹری معاملات درج ہوئے ہیں۔ خاص طور پر پرانے شہر میں رجسٹری کے اخراجات سے بچنے کیلئے نوٹری دستاویزات پر خرید و فروخت کا رجحان دیکھا گیا ہے۔