سب رجسٹرار آفسیس سنسان ، طبی ، تعلیمی اور شادیوں کے اخراجات کے لیے جائیداد فروخت کرنے والے پریشان
حیدرآباد :۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں گذشتہ تین ماہ سے رجسٹریشن کا عمل مسدود ہوجانے کی وجہ سے سرکاری خزانے کو وصول ہونے والی 1000 کروڑ سے زائد آمدنی نہیں ہوئی ہے ۔ اس سے قبل بھی رجسٹریشن کے اندراج کا عمل برائے نام ہی تھا ۔ جاریہ مالیاتی سال کے آغاز میں ہی لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد رجسٹریشن کا عمل تھم گیا تھا ۔ اس کے بعد 4 ماہ تک کورونا کا خوف چھایا رہا ۔ حال ہی میں نیا ریونیو قانون ، ایل آر ایس اسکیم کے ساتھ دھرانی پورٹل کے عمل میں لانے کے بعد گذشتہ تین ماہ سے رجسٹریشن کا عمل بند ہے ۔ دھرانی پورٹل کے ذریعہ شہر کے مضافات میں زرعی اراضیات کے رجسٹریشن کا آغاز ہوا ہے ۔ تاہم غیر زرعی اراضیات کے رجسٹریشن کا عمل عدالتی کشاکش کا شکار ہے جس سے روزانہ عوام کے ہجوم سے بھرے رہنے والے سب رجسٹرار آفسیس سنسان نظر آرہے ہیں ۔ فلیٹس اور پلاٹس کے خرید و فروخت کے لیے معاہدے ہورہے ہیں ۔ تاہم رجسٹریشن نہ ہونے کی وجہ سے کروڑہا روپیوں کا لین دین رک گیا ہے ۔ رجسٹریشن نہ ہونے کی وجہ سے ایمرجنسی کام ، طبی اخراجات ، بچوں کی شادیاں ، تعلیمی فیس کی ادائیگی کے لیے عام لوگوں کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیوں کہ وہ اپنے اراضیات اور جائیدادیں فروخت کرنے سے محروم ہیں ۔ ماہانہ 50 ہزار تا 55 ہزار تک پہلے دستاویزات کا رجسٹریشن ہوا کرتا تھا جس سے حکومت کو 320 تا 350 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوا کرتی تھی لیکن گذشتہ تین ماہ سے رجسٹریشن کے عمل کو روک دینے سے تقریبا دیڑھ لاکھ دستاویزات کے رجسٹریشن نہیں ہوئے جس سے محکمہ رجسٹریشن سے حکومت کو ہونے والی تقریبا 1000 کروڑ روپئے کی آمدنی رک گئی ہے ۔ زرعی اراضیات کے رجسٹریشن کا عمل جاری ہے ۔ تاہم آمدنی برائے نام ہے ۔ گذشتہ سال کے پہلے سہ ماہ میں حیدرآباد ، رنگاریڈی اور میڑچل اضلاع میں 1,49,550 تک کے سرکاری اندراج ہوئے تھے ۔ اس مرتبہ یہ تعداد گھٹ کر 50,264 تک پہونچ گئی ہے ۔ جب کہ آمدنی 30 فیصد سے بھی کم ہے ۔ گذشتہ سال کے پہلے سہ ماہ میں رجسٹریشن سے 1171 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی تھی ۔ اس مرتبہ صرف 399 کروڑ روپئے آمدنی ہوئی ہے ۔ دوسرے سہ ماہی اور تیسرے سہ ماہی میں آمدنی 30 فیصد تک محدود ہے ۔۔