رجسٹریشن کیلئے آدھار اور نجی معلومات کے حصول پر

   

Ferty9 Clinic

ہائی کورٹ کا اعتراض، حکومت سے وضاحت طلبی

حیدرآباد۔ جائیدادوں کے رجسٹریشن کیلئے آدھار اور دیگر نجی معلومات کا حصول تلنگانہ حکومت کیلئے مسئلہ بن چکا ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے حکومت سے سوال کیا کہ کس قانون کے تحت مالکین سے آدھار اور دیگر نجی تفصیلات طلب کی جارہی ہیں۔ چیف جسٹس راگھویندر سنگھ چوہان اور جسٹس وجئے سین ریڈی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے زرعی اراضیات کیلئے آدھار اور دیگر تفصیلات کے حصول کے خلاف دائر کردہ مفاد عامہ درخواستوں کی سماعت کی۔ عدالت نے کہا کہ اگرچہ جائیدادوں کے رجسٹریشن کیلئے تفصیلات کے حصول کا عمل گذشتہ دس برسوں سے جاری ہے لیکن یہ مسئلہ عدالت میں کبھی بھی نہیں آیا۔ عدالت نے کہا کہ حکومت کسی قانون یا قاعدہ کے بغیر زرعی اراضیات کے فروخت کنندگان اور خریداروں سے آدھار اور دیگر تفصیلات طلب کررہی ہے چونکہ یہ معاملہ عدالت میں پیش ہوا ہے لہذا ہم اس کی جانچ کررہے ہیں۔ زرعی اراضیات کیلئے مالکین کے آدھار اور افراد خاندان کی تفصیلات کے حصول کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔ اس سلسلہ میں 8 درخواستیں داخل کی گئیں۔ حکومت نے دھرانی پورٹل پر رجسٹریشن کیلئے یہ لزوم عائد کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ چونکہ حکومت نے غیر زرعی جائیدادوں کے رجسٹریشن کے سلسلہ میں اپنے احکامات واپس لے لئے ہیں لہذا زرعی اراضیات کے سلسلہ میں علحدہ احکامات کی ضرورت نہیں۔ درخواست گذار کے وکیل نے بتایا کہ ہائی کورٹ کی جانب سے 3 نومبر کو عبوری احکامات کی اجرائی کے باوجود عہدیدار تفصیلات طلب کررہے ہیں جو توہین عدالت کے مترادف ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرساد نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے عبوری احکامات کی برخواستگی کیلئے درخواست دائر کی ہے۔ چیف سکریٹری سومیش کمار کی جانب سے یہ درخواست دائر کی گئی۔ عدالت نے ایجنسی علاقوں میں رجسٹریشن کیلئے آدھار اور دیگر معلومات کے حصول کے بارے میں حکومت کو حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔