رجسٹریشن کے عمل میں ریکارڈ اضافہ

   

دو ماہ میں 75 ہزار زرعی 10 دن میں 66 ہزار غیر زرعی جائیدادوں کا رجسٹریشن

حیدرآباد: ریاست میں زرعی اور غیر زرعی جائیدادوں کے رجسٹریشن میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے ۔ 4 جنوری کو ایک ہی دن ریکارڈ سطح پر ایک طرف دھرانی کے ذریعہ تحصیلدار دفاتر میں دوسری طرف سب رجسٹرار دفاتر میں 8200 غیر زرعی اور 1,838 زرعی جائیدادوں کے دستاویزات کے رجسٹریشن اور میوٹیشن کا عمل مکمل ہوا ہے۔ دھرانی کے آغاز پر دو ماہ کے دوران 75 ہزار زرعی جائیدادوں کا رجسٹریشن ہوا جبکہ 21 دن میں 66 ہزار غیر زرعی جائیدادوں کا رجسٹریشن ہوا ہے ۔ جاریہ مالیاتی سال سب سے زیادہ غیر زرعی جائیدادوں کا رجسٹریشن پیر کو ہوا ہے ۔ صرف ایک ہی دن 8200 دستاویزات کا رجسٹریشن کیا گیا ہے جس سے حکومت کو تقریباً 28 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے۔ گزشتہ ایک ہفتہ سے غیر زرعی جائیدادوں کے رجسٹریشن کا عمل معمول کے مطابق بحال ہوگیا ہے ۔ 21 ڈسمبر سے غیر زرعی جائیدادوں کے رجسٹریشن کا دوبارہ آغاز ہوا ہے ۔ تب سے اب تک 66 ہزار دستاویزات کا رجسٹریشن ہوا ہے جس سے حکومت کو تقریباً 650 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے ۔ سال 2019 ء ڈسمبر کے اواخر تک 12.66 لاکھ دستاویزات کا رجسٹریشن ہوا تھا جس سے اسٹامپ و رجسٹریشن کی آمدنی 5,232 کروڑ ہوئی تھی ۔ گزشتہ مالیاتی سال کے اواخر 31 مارچ تک 16.59 لاکھ دستاویزات کا رجسٹریشن ہوا تھا جس سے حکومت کو 7062 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی تھی ۔ تا ہم مالیاتی سال 2020-21 کے آغاز پر ہی رجسٹریشن کے عمل پر کورونا کا گہرا اثر پڑا ہے ، جس سے گزشتہ سال کے بہ نسبت جاریہ سال نصف آمدنی بھی نہیں ہوئی ہے ۔ سال 2020 ء ڈسمبر کے اواخر تک 2410 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے۔ غیر زرعی اراضیات کے رجسٹریشن سے ایل آر ایس اور بی آر ایس کے قواعد میں ترمیم کرنے کے بعد ڈسمبر میں رجسٹریشن کے عمل میں زبردست اضافہ ہوا ہے ۔ 21 ڈسمبر سے ریگولر پلاٹس 29 ڈسمبر سے ایل آر ایس ۔بی آر ایس پلاٹس ، عمارتوں کے رجسٹریشن کا آغاز ہوگیا ہے ۔ جس سے اچانک رجسٹریشن میں اضافہ ہوگیا ۔ عام طور پر ہر دن 5 تا 6 ہزار اور مہینے میں 1.20 لاکھ تا 1.60 لاکھ دستاویزات کا رجسٹریشن ہوتا ہے جس سے 520 کروڑ سے 720 کروڑ کی آمدنی ہوئی ہے۔ حالت معمول پر آجانے کے بعد رجسٹریشن کے عمل میں بھی تیزی پیدا ہوگئی ہے ۔ آ ئندہ تین ماہ میں غیر زرعی رجسٹریشن کے عمل میں غیر معمولی اضافہ ہونے کا امکان ہے ۔ محکمہ رجسٹریشن کے آئی جی شیشادری نے بتایا کہ بدعنوانیوں سے پاک رجسٹریشن کے عمل کو یقینی بنانے دھرانی پورٹل متعارف کرایا گیا ہے جس پر کامیابی سے عمل آوری ہورہی ہے ۔ دو ماہ میں 75 ہزار زرعی اراضیات کا رجسٹریشن ہوا ہے ۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر کے سی آر نے 29 اکتوبر کو دھرانی پورٹل کا آغاز کیا تھا ۔ 2 نومبر سے ریاست کے تمام ریونیو دفاتر میں رجسٹریشن کے عمل کا آغاز ہوا۔تب سے 2 جنوری تک 75,291 رجسٹریشن ، میوٹیشن کا عمل مکمل ہوا ہے ۔ اوسطاً روزانہ 1200 رجسٹریشن ہوئے ہیں ۔ پیر کے دن ریکارڈ سطح پر 1838 رجسٹریشن ہوئے ۔ 2073 سلاٹس بک ہوئے ، نالہ کنزرویشن کے 1500 درخواستیں وصول ہوئیں جس میں 1359 مکمل ہوئے۔