رشوت کے خاتمہ کے لیے عہدیداروں پر شکنجہ ضروری

   

Ferty9 Clinic

شاد نگر میں ریونیو ، بلدیہ اور دیگر محکمہ جات میں من مانی لوٹ کھسوٹ جاری ، حکومت کی نیک نامی متاثر

شاد نگر ۔ 13 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز) : آن لائن کے نام پر محکمہ ریونیو ، محکمہ رجسٹریشن ، محکمہ بلدیہ اور دیگر محکمہ جات میں سرکاری عہدیداروں کی جانب سے بے تحاشہ رقم کی لوٹ مار جاری ہے جس کی وجہ سے عوام کی جیبوں پر بھاری مالی بوجھ پڑ رہا ہے ۔ سرکاری دفاتر کے چکر لگاتے ہوئے عوام پریشان ہیں ۔ عوام کی سہولتوں کے لیے تیار کردہ حکومت کی پالیسیوں ، اسکیمات اور دیگر پروگراموں کا سرکاری عہدیداروں کی جانب سے بے جا استعمال کرتے ہوئے عوام کی پریشانیوں میں کمی کے بجائے اضافہ کیا جارہا ہے ، حکومت کی پالیسی تمام محکمہ جات کے ریکارڈ کو صاف و شفاف بنانے کی امیدوں پر سرکاری عہدیدار پانی پھیر رہے ہیں ۔ جبکہ حکومت کی تمام پالیسیوں کو عوام کا بھر پور تعاون حاصل ہے ۔ اعلیٰ عہدیداروں کی چشم پوشی اور عدم کنٹرول کی وجہ سے منڈل سطح کے سرکاری عہدیدار من مانی کررہے ہیں ۔ سرکاری عہدیداروں کی جانب سے عوام کے استحصال کا سلسلہ جاری ہے ۔ عہدیداروں پر شکنجہ کسنا بے حد ضروری ہوگیا ہے ۔ تلنگانہ حکومت سرکاری کام کاج کو آن لائن کے ذریعہ عوام کو سہولت بخش اور سہل بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کررہی ہے تو دوسری طرف آن لائن کی یہ سہولت عوام کے لیے مصیبت بن چکی ہے ۔ عہدیداروں کی لاپرواہی سے حکومت کی بدنامی ہورہی ہے ۔ چھوٹا سرکاری عہدیدار بڑے عہدیدار کا نام لے کر درخواست گذار کو ڈراتا ہے ۔ بڑا عہدیدار اور بھی بڑے عہدیدار کا نام لیتا ہے ۔ سرکاری عہدیداروں کی اس حرکت کی وجہ سے درخواست گذار پریشان ہوجاتا ہے ۔ ہر ایک عہدیدار دوسرے کے کندھے پر بندوق رکھ کر عوام کی جیب کو نشانہ بناتے ہیں آخر یہ سلسلہ کب تک چلتا رہے گا ؟ محکمہ ریونیو میں ہمہ طریقہ کے کام کاج ہوتے ہیں جن میں قابل ذکر ، بذریعہ رجسٹریشن ڈاکومنٹ نام کی تبدیلی ، می سیوا کے ذریعہ درخواست داخل کرنے کے باوجود عوام کو دفتر کے چکر لگانا پڑتا ہے اور اراضی کو وراثت کروانے کے لیے بھی چکر لگانا پڑتا ہے ۔ آن لائن میں نام کی تبدیلی یا پھر کسی بھی طرح کی ریکارڈ میں تصحیح کے لیے منڈل تحصیل آفس کے چکر لگانا پڑتا ہے ۔ تحصیل آفس سے کوئی بھی ریکارڈ حاصل کرنے کے لیے جیب کو ہلکا کرنا پڑتا ہے ۔ اس کے علاوہ آر او آر پروسیڈنگ جاری کرنے ، آن لائن کرنے ، جدید پٹہ پاس بک جاری کرنے ، غلط اندراج کو آن لائن میں تصحیح کرنے اور دیگر سرکاری کام کاج کی انجام دہی تک پریشانی و مشکلات سے گذرنا پڑتا ہے ۔ ایک طرف درخواست گذار کی جیب خالی ہوتی رہتی ہے اور دوسری طرف لمبا وقت بھی لگ جاتا ہے ۔ ان دنوں محکمہ رجسٹریشن میں کرپشن کے معاملہ میں دیگر دفاتر سے آگے ہے کیوں کہ محکمہ رجسٹریشن کے عہدیدار یعنی سب رجسٹرار اگریکلچر اراضی کے لنک ڈاکومنٹ موجود رہنے کے باوجود آن لائن نہ رہنے اور جدید پاس بک نہ رہنے پر بھاری رقم طلب کرنے کی شکایتیں سامنے آرہے ہیں ۔ کوئی نہ کوئی وجہ بتاتے ہوئے رقم طلب کی جارہی ہے ۔ اوپن پلاٹ رجسٹریشن کرنے کی سرکاری فیس کے علاوہ آفس کا معمول ہر ایک رجسٹریشن آفس میں مقرر ہے ۔ جن جائیدادووں پر حکومت نے پابندی عائد کی ہے ان جائیدادوں میں وقف ، اندومنٹ ، سیلنگ ، سرکاری ، پورم پوگ اور دیگر شامل ہیں ۔ مذکورہ جائیدادوں میں اگر کوئی ڈاکومنٹ آفس میں داخل کیا جاتا ہے تو اس میں ساز باز کرتے ہوئے رقمی لین دین کے بعد رجسٹریشن کیا جاتا ہے ۔ بہر حال رشوت کا بازار رجسٹریشن آفسوں میں ہمیشہ گرم رہتا ہے ۔ محکمہ بلدیہ میں بھی نام کی آن لائن میں تبدیلی و تصحیح اور دیگر امور کی انجام دہی کے لیے معمول مقرر ہے ۔ اور بلڈنگ پرمیشن ، ڈیولپمنٹ و ترقیاتی کاموں کے لیے بھی ہر ایک عہدیدار کو معمول مقرر ہے ۔ بہر حال عوام چاہے پلاٹ خریدیں یا پھر زرعی اراضی خریدیں ان پر متعلقہ سرکاری عہدیداروں کا مالی بوجھ پڑنا یقینی اور ضروری ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ آفسوں کے چکر لگانا مسائل و مشکلات کا سامنا کرنا بھی بے حد ضروری ہے ۔ اگر تلنگانہ حکومت سرکاری کام کاج میں شفافیت لانا چاہتی ہے تو سرکاری عہدیداروں پر شکنجہ کسنا بے حد ضروری ہے اور رشوت کے خاتمہ کے لیے عہدیداروں پر سخت پابندی ضروری ہے ۔ حکومت کی نیک نامی کو متاثر کرنے والے عہدیداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے ۔۔