رعیتو بندھو اسکیم13,000 دولتمند کسانوں کو فائدہ

   

Ferty9 Clinic


سرکاری خزانہ پر اضافی بوجھ، معمولی تعداد نے رقم واپس کردی
حیدرآباد: حکومت کی رعیتو بندھو اسکیم کا مقصد حقیقی کسانوں کو امداد فراہم کرنا ہے لیکن 13,000 سے زائد دولتمند کسان اسکیم کا فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق 20 تا 40 ایکر کے حامل 13,000 کسان ایسے ہیں جو مجموعی طور پر 3.19 لاکھ ایکر اراضی رکھتے ہیں۔ رعیتو بندھو اسکیم کے مختلف زمرہ جات میں استفادہ کنندگان کا جائزہ لیں تو ایک بھی استفادہ کنندہ ایسا نہیں جس کے بعد 40 ایکر سے زائد اراضی ہو۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی دولتمند کسان اور زمیندار رعیتو بندھو کے تحت حکومت کی امداد حاصل کر رہے ہیں۔ بہت کم کسان ایسے ہیں جنہوں نے حکومت کی امداد کو واپس کردیا۔ گزشتہ سال 743 دولتمند کسانوں نے حکومت کو 95 لاکھ روپئے واپس کئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی عوامی نمائندے اراضی کے اعتبار سے اسکیم میں شامل کئے گئے لیکن انہوں نے حکومت کی امداد حاصل نہیں کی ۔ جاریہ مالیاتی سال تلنگانہ کے لئے بحران کا سال ہے۔ ایسے میں حکومت کو امید ہے کہ دولتمند کسان حکومت کی امداد حاصل نہیں کریں گے۔ پرنسپل سکریٹری زراعت جناردھن ریڈی کا کہنا ہے کہ جاریہ سال حکومت نے امدادی رقم کی اجرائی کا آغاز کردیا ہے۔ حکومت کا مقصد معاشی طور پر کمزور کسانوں کی مدد کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 20 تا40 ایکر توکجا صرف 10 ایکر رکھنے والے کسان بھی دولت مند شمار کئے جاتے ہیں۔ ریاست میں موجود لینڈ سیلنگ حد کے مطابق کوئی بھی شخص 18 ایکر تری یا 54 ایکر خشک اراضی کا مالک بن سکتا ہے۔