رفح میں گھس کر حماس کا خاتمہ کرینگے: نتن یاہو

   

تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو نے فوجی اڈے ’’عوفر‘‘ کے دورے کے دوران ایک بیان میں فوج کو رفح میں داخل ہونے سے روکنے کے بین الاقوامی دباؤ کو مسترد کر دیا۔ یروشلم پوسٹ کی ویب سائٹ کے مطابق نتن یاہو نے 636 فیلڈ انٹیلی جنس یونٹ کے کمانڈروں اور فوجیوں سے ملاقات کی۔ نتن یاھو نے کہا جس وقت اسرائیلی فوج رفح میں لڑائی جاری رکھنے کی تیاری کر رہی ہے، اسی دوران ہمیں علاقے میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے بین الاقوامی دباؤ کا سامنا ہے۔ اسرائیل کے وزیر اعظم کی حیثیت سے میں اس دباؤ کا مقابلہ کروں گا۔نتن یاہو نے مزید کہا”ہم رفح میں داخل ہوں گے اور اسرائیلی عوام کی سلامتی کو بحال کرنے اور ملک کیلئے مکمل فتح حاصل کرنے کے لیے حماس کو ختم کرنے کے اپنے مشن کو مکمل کریں گے۔” واضح رہے اسرائیلی وزیر اعظم امریکیوں کو اپنے موقف اور رجحانات پر قائل کرنے کے لیے دباؤ کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔واشنگٹن میں اسرائیل کے حامی گروپ امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی کو ویڈیو کے ذریعے دی گئی ایک تقریر میں انہوں نے تل ابیب کے موقف کا بھرپور دفاع کیا اور زور دیا کہ اسرائیل نے غزہ میں فلسطینی شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنی بساط کے مطابق سب کچھ کیا ہے۔یاہو نے یہ بھی کہا کہ اتحادی اور دوست یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ حماس کو تباہ کرنے کے اسرائیل کے مقصد کی حمایت کرتے ہیں۔ پھر وہ اس مقصد کے حصول کے لیے ہمارے اقدامات کی مخالفت کرتے ہیں۔کئی بین الاقوامی تنظیموں، مغربی اور عرب ممالک نے خبردار کیا ہے کہ رفح پر کوئی بھی حملہ بڑی تباہی کا باعث بنے گا۔ رفح میں اس وقت تقریبا 14 لاکھ بے گھر فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے یہ بھی خبردار کیا کہ پوری پٹی میں کوئی جگہ بھی محفوظ نہیں ہے اور اس لیے رفح کے بے گھر افراد کو منتقل نہیں کیا جا سکتا اور اس مسئلے پر بات کرنا ایک خیالی بات ہے۔
مصر نے بھی رفح پر زمینی حملے سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے تناظر میں انتباہ کیا ہے۔