تل ابیب : اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے گزشتہ شام کو رفح میں ایک طاقت ورفوجی آپریشن کے عزم ظاہر کیا ہے جس کے بعد شہری آبادی کو محصور غزہ کی پٹی کے جنوبی سرے پر واقع شہر چھوڑنے کا کہا گیا ہے۔دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نے غزہ میں جنگ بندی کیحوالے سے مصر اورقطر کے ساتھ بات چیت کے لیے نمائندہ قاہرہ بھیجنے سے بھی انکار کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل رفح میں حماس پر حملہ جاری رکھے گا۔ نیتن یاہو نے سوشل میڈیا ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ہم مکمل فتح تک لڑیں گے اور اس میں حماس کا خاتمہ بھی شامل ہے جب کہ ہم نے شہری آبادی کو جنگی علاقوں سے نکلنے کی اجازت دی ہے۔یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب گزشتہ روز قاہرہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان رفح شہر میں اسرائیل کی زمینی کارروائی کے خدشے کے درمیان جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے مذاکرات جاری تھے۔اقوام متحدہ کے مطابق، اس شہر میں تقریباً 14 لاکھ لوگ جمع ہیں جن میں سے زیادہ تر جنگ کی وجہ سے بے گھر ہوئے تھے جو ایک بہت بڑے کیمپ میں تبدیل ہو چکا ہے اور یہ غزہ کی پٹی کا واحد بڑا شہر ہے جہاں اسرائیلی فوج نے ابھی تک زمینی حملہ نہیں کیا ہے۔ تاہم، اسرائیلی فوج نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب ایک آپریشن کیاجس کے نتیجے میں اس نے دو اسرائیلی یرغمالیوں کو آزاد کرانے کا اعلان کیا لیکن حماس حکام کے مطابق اسرائیلی بمباری میں فلسطینیوں کی جانب سے تقریباً 100 افراد مارے گئے۔نیتن یاہو نے گزشتہ شام ایک ویڈیو کلپ میں مزید کہا کہ اس ہفتے ہم نے اپنے دو مغویوں کو ایک درست فوجی آپریشن میں آزاد کرایا ہے جبکہ اب تک ہم نے سخت فوجی دباؤ اوربہترین مذاکرات کے ذریعے اپنے 112 مغویوں کو آزاد کر والیاہے۔
