رمضان المبارک کے دوران خرید و فروخت کے اوقات میں تبدیلی ضروری

   

صبح محض تین گھنٹوں کی رعایت سے دشواریاں، افطار کی خریداری کا شام کے وقت موقع دیا جائے
حیدرآباد ۔23 اپریل(سیاست نیوز) شہر میں لاک ڈاؤن کے دوران عوامی سرگرمیوں کو روکنے کیلئے پولیس نے صبح کے اوقات میں تین گھنٹوں تک خرید و فروخت کی اجازت دی ہے۔ دوپہر 12 بجے سے نہ صرف دوکانات بلکہ ٹھیلہ بنڈیوں کو بھی کاروبار بند کرنے کیلئے مجبور کیا جارہا ہے ۔ ایک بجے دن سے لاک ڈاون میں سختی کا آغاز کیا جاتا ہے اور پولیس بڑے پیمانہ پر ٹو وہیلرس ضبط کر رہی ہے۔ اب جبکہ رمضان المبارک کا آغاز ہونے کو ہے، عوام میں اس بات کی تشویش ہے کہ مقدس ماہ کے دوران اگر یہی صورتحال رہی تو پھر اجناس ترکاری اور فروٹس کے حصول میں دشواری ہوگی۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو نے شام 6 بجے تک خریداری کی اجازت دینے کا اعلان کیا تھا لیکن کورونا پازیٹیو کیسس میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے پولیس نے اپنے طور پر تجارتی سرگرمیوں کو صبح کے وقت محدود کردیا ہے۔ رمضان المبارک میں عام طور پر روزہ دار ظہر تک آرام کرتے ہیں۔ سحر اور فجر کی ادائیگی کے بعد زیادہ تر لوگ آرام کرتے ہیں۔ اب جبکہ لاک ڈاؤن کی صورتحال ہے، عوام گھروں میں بند رہیں گے اور روزہ داروں کا ظہر تک آرام کرنا طئے ہے۔ ایسے میں صبح کے اوقات میں خرید و فروخت کی سرگرمیوں کی اجازت سے روزہ داروں کو دشواری ہوگی۔ زیادہ تر خریدی رمضان المبارک میں دوپہر کے بعد ہی ہوتی ہے۔ خاص طور پر افطار کیلئے فروٹس کی خریدی شام کے وقت ہی کی جاتی ہے۔ حکومت اور پولیس کو چاہئے کہ وہ رمضان المبارک اور روزہ داروں کی سہولت کیلئے تجارتی اوقات میں تبدیلی کرے۔ صبح کے بجائے سہ پہر تین تا 6 بجے شام اگر خرید و فروخت کی اجازت دی گئی تو بہتر رہے گا ۔ دوپہر تک آرام کے بعد روزہ دار بآسانی ضروری اشیاء خرید پائیں گے۔ فروٹس کی خریدی کا بہتر وقت شام 4 تا 6 بجے ہے۔ صبح کے وقت فریش فروٹس کی دستیابی یا پھر صبح خرید کر شام تک محفوظ رکھنا دشوار کن ہے ۔ پولیس کے رویہ سے مسلمانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور عوامی نمائندوں کی خاموشی پر حیرت کا اظہار کیا جارہا ہے۔ رمضان المبارک میں مساجد میں نمازوں اور تراویح کی اجازت نہیں اور مسلمان لاک ڈاؤن کی پابندی کے سلسلہ میں حکومت سے مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ گزشتہ 4 جمعے گھروں میں ادا کئے گئے۔ عوام کو بہتر سہولتوں کی فراہمی کا دعویٰ کرنے والی حکومت کو چاہئے کہ وہ پولیس کو ہدایات دیں کہ شام کے اوقات میں خرید و فروخت کا موقع فراہم کیا جائے۔ رمضان کے آغاز کے باوجود اگر صبح کے اوقات میں نرمی کا سلسلہ جاری رہا تو دوپہر کے بعد پولیس کے ساتھ عوام کی بحث و تکرار کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے جو لاک ڈاون پر عمل آوری میں دشواری کا سبب بنے گا۔ پولیس کو رمضان کے آغاز سے قبل ہی خرید و فروخت کے اوقات میں تبدیلی کا اعلان کرنا چاہئے ۔