تیسرے دہے کاآج سے آغاز، نائیٹ کرفیو اور تحدیدات کے سبب عبادتوں میں خلل
حیدرآباد۔ رمضان المبارک کے دوسرے دہے کا آج اختتام عمل میں آیا اور فرزندان توحید تیسرے دہے کی طاق راتوں کی عبادتوں کی تیاری میں مصروف ہوچکے ہیں۔ رمضان المبارک کا پہلا دہا رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا دوزخ سے نجات والا ہے۔ گزشتہ دو دہوں کے دوران کورونا کیسس میں اضافہ اور حکومت کی تحدیدات کے دوران مساجد میں عبادتوں میں مشغول رہنے سے قاصر رہے۔ دوسرے دہے میں شہر کی کئی مساجد میں تراویح میں روزانہ 3 پاروں کا اہتمام کیا گیا تھا۔ تاریخی مکہ مسجد میں دوسرے دہے کی تکمیل ہوئی جس میں حافظ و قاری لطیف احمد نے روزانہ 3 پاروں کی تلاوت کی۔ دوسرے دہے کے اختتام پر ختم قرآن کا اہتمام کیا گیا جس میں امام مکہ مسجد نے عالم اسلام اور ساری انسانیت کیلئے خصوصی دعاء کا اہتمام کیا۔ کورونا سے نجات کے لئے خصوصی دعاء کی گئی ۔ اس موقع پر حافظ و قاری لطیف احمد کو تہنیت پیش کی گئی۔ کئی مساجد میں تراویح میں سوا پارہ کا اہتمام کیا گیا ہے۔ تیسرے دہے میں تاریخی مکہ مسجد میں حافظ و قاری رضوان قریشی خطیب مکہ مسجد روزانہ تین پارے سنائیں گے۔ نماز عشاء 8 بجے مقرر ہے۔ کورونا کیسس میں اضافہ کے پیش نظر 20 اپریل سے نائیٹ کرفیو نافذ کردیا گیا ہے تاہم پولیس نے تراویح کیلئے 9:30 بجے تک کی رعایت دی ہے۔ تیسرے دہے میں فرزندان توحید مساجد میں اعتکاف کا اہتمام کرتے ہیں۔ نائیٹ کرفیو اور دیگر تحدیدات کے نتیجہ میں بہت کم لوگ اعتکاف کیلئے مساجد کا رُخ کریں گے۔ تیسرا دہا طاق راتوں میں شب قدر کی تلاش کا ہوتا ہے اور طاق راتوں میں خصوصی عبادتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ شب قدر کے موقع پر عام جلسوں کے سلسلہ میں تاحال حکومت کا موقف واضح نہیں ہے کیونکہ نائیٹ کرفیو کو 8 مئی تک توسیع دی گئی ہے۔ اگر کرفیو میں مزید توسیع ہوتی ہے تو جلسوں کا انعقاد ممکن نہیں رہے گا۔ جمعۃ الوداع کے موقع پر حکومت کی جانب سے تاریخی مکہ مسجد میں جلسہ یوم القرآن کی اجازت منسوخ کردی گئی ہے۔ مختلف قائدین اور علماء کی جانب سے آن لائن خطاب کا امکان ہے۔ پولیس نے 20 رمضان کو شہادت حضرت علی ؓ کے موقع پر شیعہ تنظیموں کو جلوس کی اجازت نہیں دی ہے۔ مجموعی طور پر کورونا کیسس اور نائیٹ کرفیو کے نتیجہ میں مساجد میں عبادتیں متاثر ہوئی ہیں۔ دن کے اوقات میں تجارتی سرگرمیاں بھی انتہائی کم دیکھی جارہی ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ نائیٹ کرفیو کے سبب عوام عید کی خریداری سے زیادہ روز مرہ کی ضروری اشیاء کی خریداری میں مصروف ہیں۔ دوسرے دہے کے اختتام پر شہر کی کئی مساجد میں جہاں 3 پاروں کا سلسلہ جاری تھا ختم قرآن کا اہتمام کیا گیا۔ کورونا پابندیوں کے نتیجہ میں مساجد میں ماسک کے استعمال، سماجی دوری اور سینٹائزر کے استعمال کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ بیشتر مساجد میں جاء نمازوں اور قالینوں کو ہٹادیا گیا اور مصلی اپنے ساتھ جاء نماز لیکر مسجد پہنچ رہے ہیں۔ کورونا کیسس اور نائیٹ کرفیو کے نتیجہ میں اس مرتبہ سماعت قرآن کی محافل بھی کافی کم ہوئی ہیں۔