افطار اور تراویح کا گھروں میں اہتمام کریں، نو انٹری زون علاقوں میں عوام کو اناج اور دیگر ضروری اشیاء کی سربراہی
حیدرآباد۔ 15 اپریل (سیاست نیوز) وزیر داخلہ محمد محمود علی نے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ شہر کے نو انٹری زونس علاقوں میں عوام کو اناج، ترکاری اور دیگر ضروری اشیاء کی گھروں تک سربراہی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ پرانے شہر میں کورونا پازیٹیو کے کیسس میں اضافہ کے بعد کئی علاقوں کی ناکہ بندی کرتے ہوئے انہیں کنٹینمنٹ ایریا قراردیا گیا ہے۔ ان علاقوں میں عوام کی نقل و حرکت پر پابندی رہے گی اور ضروری اشیاء کی سربراہی، حکام کی جانب سے گھروں تک انجام دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مقررہ اوقات میں ان علاقوں کے عوام ضروری اشیاء حاصل کرسکتے ہیں۔ وزیر داخلہ نے شہر میں کنٹینمنٹ علاقوں میں لاک ڈائون پر عمل آوری کی صورتحال کا جائزہ لیا اور مختلف علاقوں کے اعلی عہدیداروں سے بات چیت کی۔ انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا کہ لاک ڈائون پر عمل آوری میں عوام کا مکمل تعاون حاصل ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرانے شہر کے عوام کو لاک ڈائون کے سلسلہ میں مزید چوکسی کی ضرورت ہے کیوں کہ غیر ضروری مکانات سے نکلنے کی صورت میں وائرس کے شکار ہونے کا اندیشہ لاحق رہتا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حکومت اور حکام سے تعاون کرتے ہوئے 3 مئی تک لاک ڈائون پر سختی سے عمل کریں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ روزانہ انہیں بڑی تعداد میں ٹیلی فون کالس موصول ہورہے ہیں جس میں عوام لاک ڈائون کے سبب درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہیں۔ کئی غریب اور متوسط خاندان ایسے ہیں جو اپنے مکانات کے کرایہ کی ادائیگی اور مختلف اشیاء یا پھر قرض کی اقساط کی ادائیگی کے بارے میں فکر مند ہیں۔ لاک ڈائون میں ہر طبقے کی معاشی صورتحال کو متاثر کیا ہے۔ حکومت غریب خاندانوں کی مدد کے لیے پیکیج کا اعلان کرچکی ہے اور شہر میں چاول کی تقسیم کا عمل تقریباً مکمل ہوچکا ہے۔ جبکہ وائٹ راشن کارڈ ہولڈرس کے بینک اکائونٹ میں فی کس 1500 روپئے کی رقم جمع کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رقم کے حصول کے لیے بینکوں کے پاس طویل قطاریں دیکھی جارہی ہیں لیکن ایسے وقت سماجی فاصلے کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے رضاکارانہ تنظیموں کی جانب سے غریب اور ضرورتمندوں کی امداد کی ستائش کی اور کہا کہ رمضان المبارک کے پیش نظر اس کام کو مزید توسیع دیئے جانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک میں مسلمانوں کو حد درجہ احتیاط برتنی چاہئے۔ افطار اور تراویح کے علاوہ پنج وقتہ نمازیں اپنے مکانات میں ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ علماء و مشائخین نے نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ نمازوں اور تراویح کا اہتمام اپنے گھر میں کریں۔