رمضان سے قبل جنگ بندی کا امکان مشکل : جو بائیڈن

   

واشنگٹن : امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ رمضان کے آغاز تک غزہ میں جنگ بندی کے معاہدہ تک پہنچنا “مشکل لگتا ہے۔ بائیڈن نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا ’’کہ انہیں تشویش ہے کہ اگر غزہ میں جنگ بندی نہ ہوئی تو مشرقی یروشلم میں کشیدگی اور تشدد بڑھے گا۔ دوسری جانب حماس نے کہا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے اپنے مطالبات سے دستبردار نہیں ہو گی۔حماس غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو مکمل طور پر بند کرنے اور امداد، بے گھر لوگوں کیلئے پناہ گاہوں کا انتظام کرنے اور تعمیر نو کی کارروائیوں کے آغاز کا مطالبہ کرتی ہے۔اس تناظر میں اخبار ’’اسرائیل ہیوم‘‘ نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکام غزہ کی پٹی میں کچھ شہریوں کو مسلح کرنے پر بات کر رہے ہیں تاکہ پٹی کی طرف جانے والے امدادی قافلوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
اخبار نے کہا کہ یہ شہری حماس سمیت مسلح گروپوں سے منسلک نہیں ہوں گے تاہم ان کی شناخت ابھی واضح نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس معاملہ پر فیصلہ ملتوی کر دیا۔اس سال رمضان کا مہینہ فلسطینیوں کے موجودہ حالات، غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ اور مغربی کنارہ پر عائد پابندیوں کی وجہ سے غیر معمولی طور پر خوف کی فضا میں آ رہا ہے۔ رمضان کے دوران مشرقی یروشلم اور فلسطین کے دوسرے علاقوں میں تشدد اور کشیدگی میں اضافہ کے خدشات سے ہیں۔مغربی کنارہ کے لوگ ہر سال یروشلم شہر جانے اور مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کرنے کے لیے رمضان کے مہینے کا انتظار کرتے ہیں لیکن غزہ پر جنگ اور اسرائیلی پابندیوں اور اقدامات کی وجہ سے یہ سال مختلف نظر آتا ہے۔اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بین گویر نے سال 1948ء کے علاقوں سے نمازیوں کے مسجد اقصیٰ میں داخلہ پر شرائط عائد کرنے کی کوشش کی، لیکن جنگی کابینہ نے زمین پر بالخصوص یروشلم میں صورت حال خراب ہونے کے خوف سے ان کی درخواست کو نظر انداز کر دیا۔انٹیلی جنس رپورٹس کی روشنی میں اسرائیلی سیکوریٹی سروسز نے پابندیوں میں نرمی، بڑے فیصلہ نہ کرنے اور رمضان کے پہلے ہفتہ میں نمازیوں کی آمد کی اجازت دینے کی سفارش کی ہے۔