سری نگر : کشمیر نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفے ٰ کمال نے رمضان المبارک کے دوران عوام کو بنیادی ضروریات میسر نہ رکھنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ اور سرکاری محکمے کاغذی گھوڑے دوڑانے میں تو ایک دوسرے سے سبقت لیتے پھرتے ہیں لیکن جب زمینی سطح پر عوام کو راحت پہنچانے کی بات آتی ہے تو سب کچھ سراب ثابت ہوجاتا ہے ۔ ان باتوں کا اظہار انہوں نے آج پارٹی ہیڈکوارٹر پرمعزز شہریوں اور پارٹی لیڈران کیساتھ تبادلہ خیالات کرتے ہوئے کیا۔ وفود نے کہا کہ رمضان المبارک میں بھی لوگوں کو بجلی اور پینے کے پانی کی عدم دستیابی کے مسائل درپیش ہیں جبکہ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں اور صارفین سے منہ مانگی قیمتیں وصول کی جارہی ہیں اورانتظامیہ کی طرف سے قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے کیلئے کوئی بھی اقدام نہیں اُٹھایا جارہا ہے ۔ وفود نے کہا کہ صارفین کو سحری، افطار اور تراویح کے وقت بجلی کی فراہمی نہیں کی جارہی ہے ۔ رمضان المبارک میں بھی دور دراز علاقوں میں لوگ پینے کے پانی کیلئے ترس رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وفود نے ٹریفک جام کا مسئلہ بھی اُجاگر کیا اور کہا کہ منٹوںکو صفر طے کرنے میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں اور حکومت سمارٹ سٹی کے نام پر سڑکوں کی مزید تنگ کرنے میں لگی ہے ۔ ڈاکٹر کمال نے اس بات پر افسوس اور تشویش کا اظہار کیا کہ ایام متبرکہ کے دوران بھی لوگوں کو اُن بنیادی ضروریات سے محروم رکھا گیاہے جو ماضی میں خود بہ خود میسر رہا کرتی تھیں۔ انہوں نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ تے نوں خطوں میں رمضان المبارک کے دوران لوگوں کو ہر سطح پر راحت پہچانے کے لئے ٹھوس اور بروقت اقدامات اُٹھائیں۔انہوں نے انتظامیہ پر یہ بھی زور دیا کہ اس مقدس مہینے کے دوران بجلی ، پے نے کی پانی ، صحت وصفائی کے انتظامات کے ساتھ ساتھ رسوئی گے س ، معے اری چاول، آٹا دستے اب رکھا جائے اور خصوصی طور پر سحری و افطار کے اوقات پر لوگوں کو بجلی کی فراہمی یقینی بنانے میں کوئی بھی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جانا چاہئے ۔سمارٹ سٹی کے نام پر سڑکوں کی تنگی اور ٹریفک جام کے مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر کمال نے کہا کہ سمارٹ سٹی کا مطلب فٹ پاتھوں کو کشادہ کرنا اور رنگ بہ رنگی ٹائلیں لگانا نہیں ہوتا ہے ۔سمارٹ سٹی میں سب سے پہلے لوگوں کی سہولیات کا خیال رکھا جانا چاہئے اور ٹریفک جام سے پاک ہونا سمارٹ سٹی کی پہلی نشانی ہوتی ہے لیکن ہمارے موجودہ حکمران سڑکوں کی کشادگی اور فلائی اووروں کی تعمیر کے بجائے سڑکوں کو تنگ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔